انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے سے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں نہ صرف اشیائے ضروریہ مہنگی ہوں گی بلکہ برآمدات بھی متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لیوی اور اخراجات میں کمی کرے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عام آدمی کے بجٹ میں لایا جاسکے، کیونکہ آج پیٹرول کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہے، ایسے میں انڈسٹری کا پہیہ چلنا بھی مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ٹیکسوں اور لیویز کا بوجھ کم کرے تو نہ صرف ایندھن سستا ہو سکتا ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوں گے۔
صدر کاٹی نے مزید کہا کہ پہلے ہی کاروباری برادری مہنگی بجلی، بلند شرح سود اور دیگر مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صنعتکاروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور صنعت و تجارت کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ صدر کاٹی نے خبردار کیا کہ اگر پیداواری لاگت میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو مقامی صنعت کا پہیہ سست پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات معیشت اور روزگار دونوں پر مرتب ہوں گے۔