پشاور کے علاقے ارمڑ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے مفتی منیر شاکر انتقال کر گئے ہیں۔ مفتی منیر شاکر کے ساتھ تین مزید افراد زخمی ہوئے تھے، زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں مفتی منیر شاکر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملے۔
تھانہ ارمڑ کے ایس ایچ او نور محمد کے مطابق مفتی منیر شاکر کے ہجرے کے مرکزی دورازے کے قریب دیسی ساختہ بارودی مواد کا دھماکا ہوا۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں خوشحال، عابد اور سید نبی بھی شامل ہیں۔
واقعے کے بعد تھانہ ارمڑ کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی یو) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے افسران بھی موقع پر موجود ہیں۔
خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشت گرد ہلاک، 2 جوان شہید
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
مفتی منیر شاکر کا ماضی
مقامی انگریزی اخبار کے مطابق مفتی منیر شاکر، جو کرم ایجنسی کے ایک عالم دین تھے، 2004 میں خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں آ کر آباد ہوئے۔ انہیں اپنے آبائی علاقے سے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزام میں نکال دیا گیا تھا۔ خیبر ایجنسی میں ان کی آمد ابتدائی طور پر کسی کی نظر میں نہ آئی۔
بعد ازاں، انہوں نے ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن قائم کیا اور دوبارہ اپنے نظریات کے تحت حامیوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ اس بار ان کا ہدف ایک بریلوی عالم دین، پیر سیف الرحمان تھے، جو 1980 کی دہائی میں افغانستان سے ہجرت کر کے خیبر ایجنسی میں آباد ہوئے تھے اور وہاں ایک مدرسہ چلا رہے تھے۔
دونوں گروہوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد، 2006 میں ایک جرگہ بلایا گیا، جس نے فیصلہ دیا کہ دونوں علما کو علاقے سے نکال دیا جائے۔ پیر سیف الرحمان نے اس فیصلے کو تسلیم کر لیا، تاہم مفتی منیر شاکر نے پہلے تو مزاحمت کی لیکن بالآخر مقامی افراد کے دباؤ پر علاقے سے نکلنا پڑا۔ مفتی منیر شاکر نے اسلحہ بردار گروہ کی قیادت کے لیے مقامی ٹرانسپورٹر منگل باغ کو اپنا جانشین مقرر کیا، جسے بعد میں لشکرِ اسلام کے نام سے جانا جانے لگا۔
2008 میں، باڑہ میں قائم شدت پسند گروہ لشکرِ اسلام پر پابندی عائد کر دی گئی۔