امریکہ نے آسمان سے موت برسا دی، داعش کے عالمی آپریشنز کا سربراہ ہلاک

0 minutes, 0 seconds Read

عراق میں امریکی فضائی حملے میں داعش کے عالمی آپریشنز کے سربراہ عبد اللہ مکی مصلح الرفاعی المعروف ”ابو خدیجہ“ کو ہلاک کر دیا گیا۔ یہ حملہ 13 مارچ کو صوبہ الانبار میں عراقی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے کیا گیا۔ ابو خدیجہ، داعش کا دنیا بھر میں دوسرا سب سے اہم کمانڈر تھا اور تنظیم کے مالی امور، لاجسٹکس اور منصوبہ بندی کا ذمہ دار بھی تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق، فضائی حملے کے بعد عراقی اور امریکی فورسز نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور ابو خدیجہ سمیت ایک اور داعش جنگجو کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ دونوں جنگجو خودکش جیکٹیں پہنے ہوئے تھے اور بھاری اسلحے سے لیس تھے۔ ابو خدیجہ کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی، جس کے نمونے ایک پرانی کارروائی کے دوران حاصل کیے گئے تھے، جب وہ گرفتاری سے بال بال بچ نکلا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے کہا کہ ’ابو خدیجہ داعش کے عالمی نیٹ ورک کا ایک انتہائی اہم رکن تھا۔ ہم ان دہشت گردوں کو ختم کرتے رہیں گے جو ہمارے ملک، اتحادیوں اور خطے میں ہمارے شراکت داروں کے لیے خطرہ ہیں۔‘

 عبد اللہ مکی مصلح الرفاعی المعروف ”ابو خدیجہ“
عبد اللہ مکی مصلح الرفاعی المعروف ”ابو خدیجہ“

عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے اس آپریشن کو سراہتے ہوئے ابو خدیجہ کو ”عراق اور دنیا کے سب سے خطرناک دہشت گردوں میں سے ایک“ قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ یہ کارروائی امریکہ کی زیر قیادت اتحادی افواج کی مدد سے انجام دی گئی۔

عراقی فورسز نے واضح کیا ہے کہ ملک کے مغربی شہر الرطبہ میں ابو خدیجہ کے مارے جانے کے بعد وہاں سے اس کی بیوی کو حراست میں لے لیا گیا جس کی کنیت ”امّ حسین الشیشانیہ“ ہے۔ اس کا تعلق چیچنیا سے ہے۔

امریکہ نے 2023 میں ابو خدیجہ پر پابندیاں عائد کی تھیں اور اسے عراق اور شام میں داعش کے زیر کنٹرول علاقوں کا گورنر قرار دیا تھا۔ 2017 میں عراق میں داعش کی نام نہاد خلافت کے خاتمے کے باوجود، اس کے جنگجو مختلف علاقوں میں سرگرم ہیں اور عراقی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا، ’آج عراق میں داعش کے بھاگے ہوئے رہنما کو ہلاک کر دیا گیا۔ ہمارے دلیر جنگجوؤں نے اسے بے رحمی سے نشانہ بنایا اور اس کی بدقسمت زندگی کا خاتمہ کر دیا‘۔

انہوں نے مزید کہا: ’طاقت کے ذریعے امن!‘

عراق اور شام میں داعش کو بڑے پیمانے پر شکست دینے کے باوجود، اس کے باقیات اب بھی سرگرم ہیں۔ اس وقت بھی تقریباً 2,500 امریکی فوجی عراق میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مقامی فورسز کی مدد کر رہے ہیں۔

Similar Posts