آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی 2025 میں پاکستان کو تقریباً 3 ارب روپے کے نقصان کا بھارتی میڈیا کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ایک بڑے مالی مسائل کا سامنا ہے۔ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کی میزبانی پر پی سی بی کو تقریباً 3 ارب روپے بھاری رقم کا نقصان ہوا ہے کیونکہ پاکستان نے ٹورنامنٹ کے دوران صرف ایک ہی میچ اپنی سرزمین پر کھیلا۔
پاکستان کا چیمپئینز ٹرافی کا سفر اچھا نہ رہا، قومی ٹیم اپنا پہلا میچ نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور میں ہوم گراؤنڈ پر ہاری۔ پھر بھارت کے ہاتھوں کا شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ بنگلہ دیش کے خلاف آخری میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہو گیا تھا۔ ان دو ہاروں کی وجہ سے پاکستان صرف ایک میچ کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ پی سی بی نے چیمپئنز ٹرافی کے لیے تین کرکٹ اسٹیڈیم – راولپنڈی، لاہور اور کراچی کو اپ گریڈ کرنے کے لیے تقریباً 58 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ تاہم، لاگت ان کی منصوبہ بندی سے 50 فیصد زیادہ نکلی۔
آئی سی سی نے خوشدل شاہ پر جرمانہ عائد کردیا، مگر کیوں؟
بھارتی میڈیا کے دعوے کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایونٹ کی تیاری کے لیے اضافی 40 ملین ڈالر خرچ کیے۔ لیکن بدلے میں انہیں کچھ زیادہ حاصل نہیں ہوا۔ انہیں میزبانی کی فیس کے طور پر صرف 6 ملین ڈالر ملے، اور ٹکٹوں کی فروخت میں کچھ نہ ملا۔
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے اخراجات میں کمی کے لیے کھلاڑیوں کی ادائیگیوں میں بڑی کمی کی۔ انہوں نے قومی T20 چیمپئن شپ کے لیے میچ فیس میں 90 فیصد کمی کی اور ریزرو کھلاڑیوں کی ادائیگیوں میں 87.5 فیصد کمی کی۔
خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں کھلاڑیوں کی میچ فیس کم کرنے کا نوٹس لیا تھا جس میں کرکٹرز کی میچ فیس کم نہ کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔