بلوچ نوجوان دہشتگردوں کی جانب راغب کیوں ہو رہے ہیں؟

0 minutes, 0 seconds Read

سابق نگراں وزیراعظم پاکستان سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے بعد وہاں چھوڑی گئی 80 لاکھ رائفلز غائب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں چھوڑی گئی وہ رائفلز کہاں ہیں؟ ان میں سے اکثر بلیک مارکیٹ میں دہشتگردوں کیلئے دستیاب ہیں، جس کی وجہ سے ان دہشتگردوں کی آپریشنل صلاحیت بڑھ گئی ہے۔

سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے آج نیوز کے پروگرام ”نیوز انسائٹ وِد عامر ضیاء“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ان انسرجنٹس (باغیوں) کا جو گول (مقصد) ہوتا ہے وہ آپ کی لڑنے کی خواہش اور طاقت کو کم کرنا یا پوری طرح ختم کرنا چاہتے ہیں‘۔ لیکن یہ الٹا بھی پڑ جاتا ہے، جب انہیں یہ پیغام جائے کہ آپ لاحاصل جنگ لڑ رہے ہیں اور کامیاب نہیں ہوں گے تو آہستہ آہستہ دہشتگردی ختم ہوجاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف حکومتوں نے بلوچستان میں وقتاً فوقتاً لوگوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی ہے، سرینڈر پالیسیز کے زریعے کچھ لوگ واپس بھی آئے ہیں، نوکریاں پیدا ہوئی ہیں، ترقیاتی پیکیجز چل رہے ہیں۔

بلوچ نوجوانوں کے دہشتگرد تنظیموں کی طرف راغب ہونے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگر بی ایل اے یا دیگر تنظیمیں یہ دکھانا شروع کردیں کہ وہ کامیابی کی طرف جا رہے ہیں تو ایک عام آدمی کا رجحان اس طرف بڑھتا ہے، ہم نے طاقت کا استعمال اس انداز میں کرنا ہے کہ لوگوں کو یہ یقین آجائے کہ وہ ناکام ہو رہے ہیں۔

انوارالحق کاکڑ نے سانحہ جعفر ایکسپریس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی سیاسی تحریک نہیں بلکہ خالصتاً دہشتگرد تحریک ہے، عالمی اداروں اور ممالک نے سانحہ جعفر ایکسپریس پر آپ کے ساتھ کھڑے ہوکر معاونت کی بات کی ہے جو دہشتگردی کو کسی طور قبول نہیں کرتے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کونسل انسانی حقوق کی نہیں دہشتگردوں کے حقوق کی چیمپئین ہے، اگر وہ انسانی حقوق کے چیمپئین ہوتے جعفر ایکسپریس میں نہتے افراد کی موت پر دھرنا دیتے اور اس کی مذمت کرتے اور کہتے کہ جن لوگوں نے یہ قتل غارت گری کی ہے بسوں سے اتار کر لوگوں کو مارا جاتا ہے، ان کے خلاف کارروائی کریں۔ لیکن آپ کو کچھ ایسا نظر نہیں آتا۔ لیکن جہاں پر بھی عسکریت پسندوں کی شمولیت آتی ہے اس کے حوالے سے وہ بڑے شد و مد سے گفتگو کرتے نظر آتے ہیں، ’آپ ان کو ملیٹنٹس (عسکریت پسندوں) کے پروپیگنڈسٹ تو کہہ سکتے ہیں، ہیومن رائٹس کے چیمپئن نہیں ہیں یہ‘۔

Similar Posts