پینٹاگون کا بڑا ایکشن: خبریں چھپانے کے بیان پر امریکی ملٹری اخبار کی لیڈرشپ برطرف
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے امریکی فوج کے معروف اخبار ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کی اعلیٰ قیادت کو برطرف کرنے کے نوٹس جاری کر دیے ہیں، جس کے بعد اخبار کی ادارتی آزادی اور مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اخبار کے ایڈیٹر ان چیف ایرک سلاون نے جمعہ کو بتایا کہ انہیں نافرمانی کی بنایاد پر عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔ سلاون کے مطابق ان کی برطرفی کی وجہ ایک ٹی وی انٹرویو میں دیا گیا یہ بیان ہے کہ فوجی اہلکاروں کے لیے خبروں کو ممکنہ طور پر سنسر کرنا ان کے لیے ناقابل قبول ہوگا۔
سلاون نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کی برطرفی کی بنیاد یہی مؤقف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف یہ بات واضح کی تھی کہ فوجیوں تک پہنچنے والی خبروں پر کسی قسم کی فرضی سنسرشپ ان کے لیے ایک ایسی حد ہوگی جسے وہ قبول نہیں کریں گے۔
اخبار کے یورپ اور مڈل ایسٹ بیورو کے سربراہ ولیم گیلو نے عملے کے نام ایک پیغام میں تصدیق کی ہے کہ چیف ایڈیٹر کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے ذمہ داریاں نبھانے والے پبلشر میکس لیڈر اور ایک رپورٹر لارا کورٹے کو بھی برطرفی کے نوٹس مل چکے ہیں۔
گالو نے عملے کو یقین دلایا کہ اخبار اپنی قانونی ذمہ داری کے مطابق آزاد صحافت جاری رکھنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ موجودہ صورتحال کے بعد ادارے کے مستقبل اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں کئی سوالات موجود ہیں۔
میکس لیڈرر ستمبر کے آخر میں ریٹائر ہونے والے تھے. تاہم، ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے وقت انہوں نے کہا کہ پینٹاگون اب ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے لیے ایک ایسا نیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہتا ہے جو ان کے اپنے نقطۂ نظر سے مختلف ہے۔
اس دوران اخبار کے لیے مشرق وسطیٰ کی کوریج کرنے والی صحافی لارا کورٹ نے بھی سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ’سی بی ایس نیوز‘ کو بتایا تھا کہ وہ پینٹاگون کے لیے نہیں بلکہ ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے لیے کام کرتی ہیں۔
پینٹاگون نے رائٹرز کی جانب سے معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کی تاریخ دوسری جنگ عظیم سے بھی پرانی ہے اور یہ اخبار مسلسل فوجی اہلکاروں کے لیے خبریں شائع کرتا آ رہا ہے۔ دنیا بھر میں تعینات امریکی فوجیوں تک ملکی اور عالمی خبریں پہنچانا اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اخبار کو امریکی محکمہ دفاع سے مالی معاونت ملتی ہے، تاہم تاریخی طور پر اسے ادارتی معاملات میں نسبتاً آزاد سمجھا جاتا رہا ہے۔
موجودہ امریکی انتظامیہ کے دور میں پینٹاگون نے اخبار کے معاملات پر زیادہ اختیار حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ رواں سال پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا تھا کہ محکمہ دفاع اپنے طریقہ کار کو جدید بنانا اور ایسے مواد پر توجہ کم کرنا چاہتا ہے جسے وہ فوجیوں کے حوصلے کے لیے غیر ضروری سمجھتا ہے۔
پینٹاگون نے حال ہی میں اخبار کے پبلشر کے ساتھ کام کرنے کے لیے ایک فوجی ڈپٹی بھی مقرر کیا ہے۔ پارنیل نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس فوجی افسر کے ایک کھلے خط کا حصہ بھی شیئر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں اخبار شاید دوسری جنگ عظیم کے زمانے جیسا اثر پیدا نہ کر سکے، لیکن اسے فوجی اہلکاروں کے لیے بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
یہ معاملہ امریکی میڈیا میں آزادیٔ صحافت کے حوالے سے جاری وسیع بحث کا بھی حصہ بن گیا ہے۔ آزادیٔ صحافت کے حامیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں پینٹاگون سے متعلق صحافتی پالیسیوں میں ہونے والی بعض تبدیلیوں پر پہلے ہی تنقید کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ صحافیوں کی رسائی محدود ہونے سے معلومات تک آزادانہ رسائی اور اظہارِ رائے متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب پینٹاگون کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ فوجی اداروں کے کام کرنے کے طریقے اور معلومات کی فراہمی کو موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق بہتر بنانا چاہتا ہے۔ ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کی قیادت میں حالیہ تبدیلیاں اسی وسیع تر پالیسی کا حصہ دکھائی دیتی ہیں، تاہم اس کے نتیجے میں اخبار کی ادارتی آزادی کس حد تک برقرار رہتی ہے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران پینٹاگون کی جانب سے ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کو مکمل طور پر بند کرنے کے فیصلے کو واپس لے لیا تھا۔ اب اسی اخبار پر حکومتی اثر و رسوخ میں اضافے کی کوششوں نے ایک بار پھر اس کے مستقبل اور آزادیٔ صحافت پر بحث کو جنم دے دیا ہے۔