پیٹریاٹ میزائل ختم ہونے کے قریب، یوکرین کی سب سے بڑی عسکری کمزوری بے نقاب
یوکرین میں روسی حملوں کے خلاف انتہائی اہم دفاعی ہتھیار پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، جس کے باعث ملک کی فضائی دفاعی صلاحیت کو بڑا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یوکرین کے پاس روسی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے درکار پیٹریاٹ میزائل تقریباً ختم ہوچکے ہیں، جبکہ صدر ولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو امریکی ذخیرے کے کم از کم 5 فیصد کے برابر انٹرسیپٹرز درکار ہیں، تاہم اس وقت اس کے پاس تقریباً ایک فیصد موجود ہے۔
امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اس وقت عالمی سطح پر شدید قلت کا شکار ہے۔ متعدد ممالک اپنے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ان میزائلوں کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خلیجی ممالک میں بھی پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق یوکرین میں موجود ایک پیٹریاٹ یونٹ کے 16 لانچنگ ٹیوبز مسلسل استعمال کے آثار ظاہر کر رہے ہیں، تاہم یونٹ کے چیف انجینئر کے مطابق پیٹریاٹ لانچر نے کئی ہفتوں سے کوئی انٹرسیپٹر فائر نہیں کیا۔
یوکرینی انجینئر نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب روسی بیلسٹک میزائل شہری آبادی کی جانب پرواز کر رہے ہوں، ان کے پاس انہیں روکنے کے لیے میزائل موجود نہ ہونا انتہائی تکلیف دہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2025 میں پہلی مرتبہ ایسا وقت آیا جب ان کے یونٹ کے پاس فائر کرنے کے لیے کوئی انٹرسیپٹر موجود نہیں تھا۔
پیٹریاٹ نظام صرف لانچر پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں ریڈار، کمانڈ سینٹر اور دیگر آلات شامل ہوتے ہیں۔ یونٹ کے کمانڈ سینٹر میں موجود اہلکاروں کے مطابق کس میزائل کو روکنے کے لیے انٹرسیپٹر فائر کرنا ہے، اس کا فیصلہ کمانڈر تجربے کی بنیاد پر کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جنگ کے ابتدائی چار دنوں میں اتحادی افواج نے اوسطاً روزانہ 225 انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیٹریاٹ میزائل بنانے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے 2025 میں تقریباً 620 انٹرسیپٹرز تیار کیے، یعنی اوسطاً روزانہ دو سے بھی کم۔ اس کے مقابلے میں جنگ کے دوران ان کے استعمال کی شرح کہیں زیادہ رہی۔
امریکی محکمہ دفاع نے رواں سال جنوری میں لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ سات سالہ معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت کمپنی 2030 تک سالانہ 2 ہزار پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرے گی۔
دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ ملک میں امریکی اجازت سے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی تیاری شروع کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے مطابق انہوں نے امریکی کمپنیوں ریتھیون اور لاک ہیڈ مارٹن کو یوکرین میں پیداواری پلانٹ لگانے کی پیشکش کی ہے۔
زیلنسکی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں نیٹو اجلاس کے موقع پر یوکرین کو پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی تیاری کے لیے لائسنس دینے کی پیشکش کی تھی۔ بعد ازاں امریکی کمپنیوں کے نمائندوں نے کیف میں زیلنسکی سے ملاقات بھی کی، تاہم ٹرمپ نے بعد میں لائسنس جاری ہونے کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی یوکرین میں تیاری کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ یا ضمانت نہیں دی گئی، جبکہ امریکی ٹیکنالوجی کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
یوکرینی پیٹریاٹ یونٹ کے چیف انجینئر کے مطابق اگر انہیں فوری طور پر پیٹریاٹ بیٹری اور انٹرسیپٹر تیار کرنے کی اجازت بھی مل جائے تو ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس نظام کی تیاری کے لیے انتہائی پیچیدہ تکنیکی معلومات اور وسیع مہارت درکار ہے۔