پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کی حمایت کر دی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جماعت اسلامی کے عوامی مسائل کے حل کے لیے جاری احتجاج اور دھرنوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے جماعت اسلامی سے 27 ستمبر کے لانگ مارچ میں حمایت کی اپیل کردی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی پریس کانفرنس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی جماعت اسلامی کے احتجاج اور دھرنے کو سپورٹ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو خوش آمدید کہتے ہیں اور عوام کے لیے ہمیشہ حافظ نعیم الرحمان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان عوام کو ریلیف دلانے کے لیے نکلے ہیں، جبکہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے بھی اچھے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی سے مطالبہ کیا کہ وہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی حمایت کا اعلان کرے۔
دوسری جانب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہیں۔ پورے پاکستان میں دھرنوں کی تعداد 40 ہوچکی ہے جبکہ لاہور میں جاری دھرنے کو آج 30 دن مکمل ہوگئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے مجبور ہوکر گزشتہ روز ریلیف پیکج کا اعلان کیا، تاہم ریلیف پیکج کے بجائے لیوی کا خاتمہ ضروری ہے۔ مہنگائی کے موجودہ دور میں فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف بھی ناکافی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی 25 کروڑ عوام کی امید بن چکی ہے اور حکومت کو مجبور کریں گے کہ عوام کو مزید ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کو ریلیف دلوا کر ہی دم لے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 20 ستمبر کو تاریخی پاور شو ہوگا اور اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لانگ مارچ میں حکومت نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کی ذمہ دار حکومت خود ہوگی۔
اُدھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا۔