پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ
پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں 27 ستمبر کی احتجاجی کال برقرار رکھنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ختم ہوگیا، جس میں حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد پارٹی رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔
وزیراعلٰی خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان ہفتے کو سپریم کورٹ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے معاملے کو عدالت کے سامنے اٹھایا جائے گا۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال کے باہر لوگوں کی موجودگی کا بہانہ بنایا گیا۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کو نہ اسپتال داخل کیا گیا نہ علاج ہوا، سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل واضح تھا اور اس میں کوئی ابہام نہیں تھا۔
پی ٹی آئی کے اجلاس میں 27 ستمبر کی کال برقرار رکھنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ پارٹی قیادت نے احتجاجی لائحہ عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان کو براہِ راست شفا اسپتال لے جایا گیا جب کہ ان کی ہمشیرہ کو پمز منتقل کیا گیا، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی مکمل طور پر سبوتاژ کیا گیا ہے۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ متعلقہ فریق کی تاریخ ایسی ہی رہی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ماضی میں سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ جماعت نے سپریم کورٹ پر براہِ راست حملہ کیا اور عدالت کے اندر تک داخل ہوگئی تھی، آج اسی واقعے کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون، سپریم کورٹ اور عدلیہ کے فیصلوں پر اعتماد نہیں کیا جاتا اور جو فیصلے مرضی کے خلاف آئیں، انہیں تسلیم کرنے کے بجائے مسترد کردیا جاتا ہے۔ راجہ ناصر عباس نے الزام عائد کیا کہ توہین عدالت کی گئی ہے اور اسے سراسر زیادتی اور ظلم قرار دیا۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی معائنے کے بعد اسپتال سے واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا، جہاں انہیں جیل کمپاؤنڈ میں شفٹ کردیا گیا ہے۔
جیل ذرائع کے مطابق عمران خان کو رات گئے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ماہر امراض چشم، امراض قلب اور فزیشن پر مشتمل ٹیم نے طبی معائنہ کیا۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق ڈاکٹروں نے انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق اسپتال منتقلی سے قبل اڈیالہ جیل میں قانونی کارروائی مکمل کی گئی اور میڈیکل بورڈ کے ارکان نے بھی ان کا معائنہ کیا۔ عمران خان کو سخت سیکیورٹی میں صبح 5 بجے واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو دو روز میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے، مکمل طبی معائنہ اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اہل خانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے فون پر بات کی اجازت بھی دی تھی۔
بعدازاں، جمعے کے روز بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر حکومت نے سپریم کورٹ میں دوبارہ نظرثانی درخواست دائر کی ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔