امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ جنگی معاملات سے پیچھے ہٹ گئے، وجہ کیا ہے؟

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پیر کے روز ایک سابق نیوی سیل اہلکار کی انتخابی مہم میں حصہ لے کر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ ہیگستھ نے ریاست کینٹکی میں منعقدہ ایک ریلی میں ریپبلکن امیدوار ایڈ گالرین کی حمایت کا اعلان کیا، جو کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم ریپبلکن مخالفین میں شمار کیے جانے والے رکن کانگریس تھامس میسی کے مدمقابل ہیں۔

رائٹرز کے مطابق دونوں امیدواروں کے درمیان منگل کو ہونے والا مقابلہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی تاریخ کا مہنگا ترین پرائمری انتخاب بن چکا ہے۔ تھامس میسی حالیہ عرصے میں صدر ٹرمپ سے اہم قانون سازی کے معاملات پر اختلافات رکھتے رہے ہیں جبکہ انہوں نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق حکومتی فائلیں جاری کرنے کی مہم کی بھی قیادت کی تھی۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ اکثر ایسا ہوا کہ تھامس میسی نے صدر ٹرمپ کی قیادت میں چلنے والی تحریک کو مضبوط بنانے کے بجائے خود کو اس سے الگ رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے میسی پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسے وقت میں جب تحریک کو اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے، ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

امریکی وزیرِ دفاع کا کسی سیاسی جلسے میں شریک ہونا غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا مختلف عالمی تنازعات میں مصروف ہے اور امریکی فوج کو روایتی طور پر غیر سیاسی ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم ہیگستھ نے گزشتہ برس عہدہ سنبھالنے کے بعد متعدد روایات سے ہٹ کر اقدامات کیے، جن میں پینٹاگون میں مسیحی دعائیہ تقاریب کا انعقاد، صحافیوں کو حضرت عیسیٰؑ کے دشمنوں سے تشبیہ دینا، اور ایک ڈیموکریٹ سینیٹر کے خلاف کارروائی کی کوشش شامل ہے جس نے فوجی اہلکاروں سے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کرنے کا کہا تھا۔

ہیگستھ نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ وہ کینٹکی میں ذاتی حیثیت میں شریک ہوئے ہیں، کیونکہ وفاقی ملازمین کی سیاسی سرگرمیوں پر قانونی پابندیاں موجود ہیں۔ انہوں نے حاضر تمام وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کی شرکت ذاتی نوعیت کی ہے۔

پینٹاگون نے بھی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع نے ہیچ ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں کی، جو وفاقی ملازمین کو اپنی سرکاری حیثیت استعمال کرکے انتخابات پر اثرانداز ہونے سے روکتا ہے۔

اس کے علاوہ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بیان میں کہا کہ اس دورے کے لیے ٹیکس دہندگان کا کوئی پیسہ استعمال نہیں ہوگا اور قانونی ماہرین نے مکمل جانچ پڑتال کے بعد اس شرکت کی منظوری دی ہے۔

Related posts