ناامیدی کو ذہن سے نکال دیجیے!

رابرٹ بریٹ (Robert Barrat) 1957 میں لندن میں پیدا ہوا۔ اسے بچپن سے گہرے پانیوں میں زندگی گزارنے کا شوق تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ نیلگوں سمندر اور اس کے درمیان ایک مضبوط رابطہ ہے۔ اسکول مکمل کرنے کے بعد‘ فیصلہ کیا کہ اپنے ملک کی بحریہ میں ملازمت کرے گا۔ حکومتی اداروں سے رابطہ […]

ایران؛ اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں 20 افراد گرفتار

ایران کے مختلف علاقوں میں درجنوں افراد کو اسرائیل تک حساس معلومات پہنچانےکے الزام میں 20 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبائی پراسیکیوٹر کے دفتر کے الزامات پر 20 افراد کو گرفتار کیا گیا جن پر ایران کی فوجی اور سیکیورٹی تنصیبات کے مقام کی تفصیلات […]

حیرت سے دریافت تک

انسانی تاریخ کے طویل اور پُرپیچ سفر میں اگر کسی ایک جذبے کو تخلیق، دریافت اور فہمِ کائنات کی بنیاد کہا جائے تو وہ حیرت و تجسس ہے۔ البرٹ آئن اسٹائن کا یہ قول محض ایک فلسفیانہ جملہ نہیں بلکہ انسانی شعور کی پوری تاریخ کا نچوڑ ہے۔ حیرت وہ پہلا دروازہ ہے جو انسان کے باطن میں کھلتا ہے، اور تجسس وہ چراغ ہے جو اس دروازے کے پار اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔ یہی جذبہ انسان کو غاروں کی دیواروں پر لکیریں کھینچنے سے لے کر کہکشاؤں کے اسرار سمجھنے تک لے آیا۔ اگر انسان اشیاءکو دیکھ کر چونکنا چھوڑ دے، سوال کرنا ترک کردے اور نامعلوم کو قبول کرنے کی خواہش کھو بیٹھے تو نہ فن باقی رہتا ہے نہ سائنس، نہ فکر زندہ رہتی ہے نہ تہذیب۔ حیرت دراصل جمود کے خلاف پہلی بغاوت ہے۔ جب انسان کسی منظر، کسی حقیقت یا کسی سوال کے سامنے رک کر یہ کہتا ہے کہ ”یہ ایسا کیوں ہے؟“ تو وہ لمحہ محض سوال نہیں ہوتا بلکہ ایک تخلیقی ارتعاش ہوتا ہے۔ یہی ارتعاش شاعر کے دل میں استعارہ بن جاتا ہے، مصور کے ہاتھ میں رنگوں کی صورت اختیار کرتا ہے اور سائنس دان کے ذہن میں نظریے کی شکل لے لیتا ہے۔ حیرت انسان کو معمول سے غیر معمول کی طرف لے جاتی ہے، اور تجسس اسے غیرمعمول کو سمجھنے کی جرأت عطا کرتا ہے۔ آئن اسٹائن اسی لیے اس جذبے کو حقیقی فن اور حقیقی سائنس کا گہوارہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ جہاں حیرت ختم ہو جائے وہاں تحقیق محض مشق رہ جاتی ہے اور فن صرف نقل۔ سائنس کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی بڑی دریافت محض معلومات کے انبار سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک سادہ مگر گہرا سوال اس کے پیچھے کارفرما تھا۔ نیوٹن کے ذہن میں گرتا ہوا سیب اس لیے معنی خیز بنا کہ اس نے اسے معمولی واقعہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا بلکہ اس پر حیران ہوا۔ اسی حیرت نے کششِ ثقل کے قانون کی بنیاد رکھی۔ آئن اسٹائن خود اگر وقت اور مکان کو جامد حقیقت مان لیتے تو اضافیت کا تصور کبھی جنم نہ لیتا۔ سوال یہ نہیں تھا کہ حساب کیسے کیا جائے، اصل سوال یہ تھا کہ کائنات ویسی کیوں ہے جیسی ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ یہی حیرت سائنس کو زندہ رکھتی ہے اور اسے محض تکنیکی ہنر بننے سے بچاتی ہے۔ فن کی دنیا میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ عظیم فن پارے اس وقت تخلیق ہوتے ہیں جب فن کار کسی عام تجربے میں غیرمعمولی معنویت دریافت کرلیتا ہے۔ ایک شاعر کے لیے شام کا ڈھلنا صرف سورج کا غروب نہیں ہوتا بلکہ وقت کے زوال، جدائی کے دکھ یا امید کے چراغ کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ سب حیرت کے بغیر ممکن نہیں۔ جو فن کار دنیا کو دیکھ کر چونکتا نہیں، جو منظر کے پیچھے چھپی معنویت پر ٹھٹک کر نہیں رکتا، اس کا فن محض سجاوٹ بن کر رہ جاتا ہے۔ حقیقی فن وہ ہے جو دیکھنے والے کے اندر بھی سوال پیدا کرے، اسے سوچنے پر مجبور کرے اور اس کے شعور میں ارتعاش پیدا کرے۔ جدید دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ معلومات کی فراوانی نے حیرت کو دبا دیا ہے۔ ہر سوال کا فوری جواب، ہر مسئلے کا تیار حل اور ہر شے کی فوری تشریح انسان کو مطمئن تو کردیتی ہے مگر متجسس نہیں رہنے دیتی۔ ہم جاننے لگے ہیں مگر سوچنا بھول گئے ہیں۔ سرچ انجن ہمیں معلومات دیتے ہیں مگر حیرت کا ذائقہ نہیں چکھاتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ علم بڑھ رہا ہے مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے، ڈیٹا جمع ہو رہا ہے مگر بصیرت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ آئن اسٹائن کا قول اس تناظر میں ایک تنبیہ بھی ہے کہ اگر ہم نے حیرت کے جذبے کو زندہ نہ رکھا تو سائنس محض صنعت بن جائے گی اور فن محض تفریح۔ تعلیم کا مقصد بھی دراصل اسی جذبے کی آبیاری ہونا چاہیے۔ وہ نظامِ تعلیم جو بچوں کو سوال کرنے سے روکے، حیران ہونے پر شرمندہ کرے اور صرف درست جواب یاد کروانے پر زور دے، وہ ذہن نہیں بناتا بلکہ فائلیں تیار کرتا ہے۔ ایک زندہ ذہن وہ ہے جو سوال اٹھاتا ہے، شبہ کرتا ہے اور تلاش کے عمل سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ استاد کا اصل کام معلومات منتقل کرنا نہیں بلکہ حیرت جگانا ہے۔ جب طالب علم کے اندر “کیوں” اور “کیسے” کا سوال زندہ ہو جائے تو علم خود اس کی طرف چل کر آتا ہے۔ حیرت و تجسس محض سائنسی یا فنی دائرے تک محدود نہیں بلکہ انسانی اخلاق اور روحانیت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ کائنات پر غور، زندگی کے مقصد پر سوال اور وجود کے اسرار پر سوچ ہی انسان کو سطحی زندگی سے بلند کرتی ہے۔ جو شخص کائنات کو ایک مشینی تماشا سمجھ کر قبول کر لیتا ہے وہ جلد بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے، مگر جو شخص اس میں معنی تلاش کرتا ہے وہ شکر، عاجزی اور ذمے داری کے احساس تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے فکر و روحانیت میں بھی غور و فکر کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ آئن اسٹائن خود مذہبی عقائد کے روایتی سانچوں میں مقید نہیں تھے مگر کائنات کے حسن اور ترتیب کے سامنے ان کی حیرت عمیق تھی۔ وہ جانتے تھے کہ علم جتنا بڑھتا ہے، اسرار اتنے ہی گہرے ہو جاتے ہیں۔ یہی احساس انسان کو غرور سے بچاتا ہے اور اسے مسلسل طالبِ علم بنائے رکھتا ہے۔ حقیقی سائنس دان وہی ہے جو جاننے کے باوجود یہ مانتا ہے کہ وہ بہت کچھ نہیں جانتا، اور یہی اعترافِ لاعلمی اسے مزید تلاش پر آمادہ کرتا ہے۔ آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ حیرت و تجسس انسانی روح کی سانس ہیں۔ جب یہ سانس رک جائے تو فکر گھٹنے لگتی ہے، تخلیق مرجھا جاتی ہے اور علم جامد ہو جاتا ہے۔ آئن اسٹائن کا یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سوال کرنا کم زوری نہیں بلکہ زندگی کی علامت ہے، اور حیران ہونا نادانی نہیں بلکہ شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر ہمیں حقیقی فن اور حقیقی سائنس کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں اپنے اندر اس بچے کو زندہ رکھنا ہوگا جو آسمان دیکھ کر سوال کرتا ہے، ستاروں کو گنتا ہے اور کائنات کے حسن پر خاموشی سے چونک جاتا ہے۔ یہی چونکنا انسان کو انسان بناتا ہے، اور یہی جذبہ اسے آگے بڑھنے کی ہمت عطا کرتا ہے۔

تیسرا ون ڈے؛ بنگلا دیش سے شکست کے بعد شاہین آفریدی کا بیان سامنے آگیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی نے بنگلا دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں شکست کے بعد بیان سامنے آگیا۔ میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے بتایا کہ ٹیم کی کارکردگی توقع کے مطابق نہ رہ سکی، خاص طور پر بیٹنگ لائن بہت […]

پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلیے منفرد مثال قائم کر دی

پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلٸے منفرد مثال قائم کر دی ، اپنے الاؤنسز ابھرتے ہوئے باصلاحیت کھلاڑیوں کو دینے کا اعلان کر دیا۔  پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کانگریس اجلاس میں شرکت کا اپنا الاؤنس پاکستان انڈر 20 ٹیم کے کھلاڑی محمد […]

آئی ٹی کورس، طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دوں گا،عید کے بعد شیڈول کا اعلان کروں گا، کامران ٹیسوری

سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ گورنر ہاؤس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام سرکاری خرچ پر نہیں بلکہ اپنے ذاتی مالی وسائل سے چلارہا تھا اور اب گورنر کے عہدے پر نہیں ہوں لیکن دو سال تک کلاس لینے والے  50 ہزار طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دوں گا اور […]

سندھ میں 12سال گزرنے کے باوجود تھیلیسیمیا ایکٹ پر عمل درآمد نہیں ہوسکا

سندھ میں 12 سال گزرنے کے باوجود خون کے مرض تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے منظور کردہ قانون پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا اور اسی طرح 2023 میں مصنوعی ڈبے کے بچوں کے دودھ  کی کھلے عام فروخت پر پابندی کا قانون بھی اج تک نافذ نہیں ہوسکا۔ سندھ اسمبلی نے 2013 میں […]

امریکی وزیر نے ایران کے ساتھ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ظاہر کردیا

امریکا وزیر توانائی کرس رائٹ نے ایران کے ساتھ جنگ اگلے چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ظاہر کردیا ہے جبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے جنگ بندی کی درخواست یا مذاکرات کے تاثر کو رد کردیا ہے۔ غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ توقع ہے […]

سرکاری خزانے سے چیئرمین سینیٹ کیلیے 9 کروڑ روپے کی مہنگی گاڑی خریدنے کا انکشاف

سرکاری خزانے سے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے لیے تقریباً 9 کروڑ روپے مالیت کی نئی گاڑی خریدے جانے کا انکشاف ہوا ہے، خریدی گئی 9کروڑ روپے کی مہنگی گاڑی سینٹ سیکرٹریٹ کے پاس پہنچ گئی۔ ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں جب چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے سوال کیا گیا کہ کیا سرکاری […]

پاکستان ریلوے کی شالیمار ایکسپریس خوفناک حادثے کا شکار

پاکستان ریلوے کی شالیمار ایکسپریس اور مال گاڑی میں لاکھا روڈ اسٹیشن پر خوف ناک تصادم ہوا تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ایکسپریس نیوز کےمطابق لاکھا روڈ ریلوے اسٹیشن کی لوپ لائن پر پہلے سے کھڑی مال گاڑی کو پیچھے سے آنے والی 27 اپ شالیمار ایکسپریس نے ٹکر مار دی اور ابتدائی […]