حکومت نے اسلام آباد میں احتجاج روکنے کیلئے ایک ارب 35 کروڑ روپے سے زائد خرج کردیے

0 minutes, 1 second Read

قومی اسمبلی اجلاس کے وقفہ سوالات میں وزارت داخلہ نے گزشتہ 5 سال کے دوران اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے سے متعلق اخراجات کی تفصیلات پیش کر دیں، گزشتہ 5 سال میں ریڈ زون میں اعلان کردہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے 1 ارب 35 کروڑ 58 لاکھ روپے سے زائد خرچ کردیے گئے، کس سال میں کس کی حکومت میں تھی اور اس نے کتنی رقم اسلام آباد میں مظاہروں اور دھرنوں کو کنٹرول کرنے کے لیے خرچ کی۔

سال 2018 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت آئی تو اسے مولانا فضل الرحمان کے ایک، پی ڈی ایم کے 2 اور پیپلز پارٹی کے ایک مارچ کا سامنا کرنا پڑا، جن پر سال 2019-20 میں اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کے لیے 15 کروڑ 77 لاکھ 61 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔

سال 2020-21 میں اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کے لیے 9 کروڑ 61 لاکھ 35 ہزار روپے خرچ کیے گئے، سال 2021-22 میں اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کے لیے 27 کروڑ 79 لاکھ 48 ہزارروپے خرچ کیے گئے۔

سال 2022 کے آغاز میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں پی ٹی آئی حکومت ختم ہوئی تو پی ڈی ایم کی حکومت آئی پھر نگراں حکومت بھی اسی کی ایک طرح سے توسیع تھی، پھر 8 فروری 2024 کے الیکشن کے نتیجے میں دوبارہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی ہی حکومت بنی، جسے پی ٹی آئی کے دھرنوں اور مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا۔

سال 2022-23 میں اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کے لیے 72 کروڑ 40 لاکھ 31 ہزار روپے خرچ کیے گئے، سال 2023-24 میں اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کے لیے 10 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

پی اے سی نے توشہ خانہ کا 1947 سے ریکارڈ طلب کرلیا

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے توشہ خانہ کا 1947 سے ریکارڈ طلب کرلیا،،سیکرٹری کیبنٹ کا کہنا تھا کہ 2001 سے پہلے کا توشہ خانہ ریکارڈ کلاسیفائیڈ ہے،، توشہ خانہ ایکٹ 2024 کے تحت نئے قواعد بنائے جا رہے ہیں،،ایکٹ میں تبدیلیوں کی کابینہ نے منظوری دی ہے،،پی اے سی نے 15دن میں توشہ خانہ کے تمام نیلام ہونے والے تحائف کی تفصیلات طلب کرلیں،، پی اے سی نے چیئرمین کرکٹ بورڈ کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔۔۔

پی اے سی کا اجلاس جنید اکبر کی صدارت میں ہوا، جس میں کابینہ ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ 2023۔24 کا جائزہ لیا گیا اور 3 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔

پی اے سی نے کابینہ ڈویژن کی محکمانہ اکائونٹس کمیٹی کے جوائنٹ سیکرٹری کی زیر صدارت ہونے والے ڈی اے سی اجلاسوں کی آڈٹ رپورٹس مؤخر کرتے ہوئے سیکرٹری کابینہ کو دوبارہ اجلاس کی ہدایت کردی۔

پی اے سی اجلاس میں توشہ خانہ کی خصوصی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا، آڈٹ حکام نے کہا کہ توشہ خانہ قواعد میں 2001 سے 2018 تک کابینہ کی منظوری کے بغیر ترامیم کی گئیں۔

سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ توشہ خانہ کا 2002 سے قبل کا ریکارڈ کلاسیفائیڈ ہے، بین الوزارتی کمیٹی نے ریکارڈ ڈی کلاسیفائی کرنا ہے۔

سیکرٹری کابینہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2002 سے 2024 تک کا ریکارڈ ویب سائیٹ پر موجود ہے، جس پر چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ریکارڈ ہارڈ کاپی کی صورت میں کمیٹی اراکین کو بھجوایا جائے۔

سیکرٹری کابینہ کا کہنا تھا کہ حکومت پبلک آفس ہولڈرز پر تحائف وصول کرنے پر پابندی لگانے کا سنجیدگی سے سوچ رہی ہے، فوجی حکام کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات کابینہ ڈویژن کے پاس نہیں ہوتیں، ایکٹ میں ہپبلک آفس ہولڈر کا ذکر ہے، نئے ایکٹ کے تحت اب پبلک آفس ہولڈر پوری رقم دے کر بھی تحفہ نہیں رکھ سکتا۔

اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ آج تک توشہ خانہ کے تحائف کا نیلام عام نہیں کیا گیا۔ سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ سرکاری افسران کو سرکولرجاری کر کے نیلامی کروا دی جاتی ہے، نیلام عام اس لیے نہیں ہو سکتا کہ ہمارے پاس نجی شعبہ سے اپریزر موجود نہیں، کئی مرتبہ اشتہار دینے کے باوجود نجی اپریزرنہیں آیا۔

امین الحق کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کا معاملہ ایسے ہی ہے جیسے اندھا بانٹے ریوڑیاں، پی اے سی نے توشہ خانہ سے متعلق تمام آڈٹ اعتراضات مؤخر کر دیے۔

پی اے سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ بھی لیا

پی اے سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ بھی لیا، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی عدم شرکت پر پی اے سی نے برہمی کا اظہار کیا۔

سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ چئیرمین پی سی بی کے پاس کئی اہم عہدے ہیں، فوزیہ ارشد کا کہنا تھا کہ محسن نقوی اپنے عہدوں کی تعداد کے باعث انصاف نہیں کرپا رہے، محسن نقوی کے اضافی عہدے ختم ہونے چاہئیں، اس پر چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ آپ کیا چاہتی ہیں کہ میں اپنے باقی دن جیل میں گزاروں؟

انہوں نے کہا کہ چیمپیئنز ٹرافی میں سنا ہے کہ 29 ارب کا خرچہ ہوا جبکہ آمدن ایک ارب کے لگ بھگ ہوئی، چیف فنانس افسر پی سی بی نے کہا کہ یہ بات درست نہیں، یہ ٹورنامنٹ آئی سی سی کا تھا، آئی سی سی کا چیمپئینز ٹرافی کا بجٹ 7 کروڑ ڈالر تھا۔

کمیٹی نے استفسار کیا کہ وہ پیسہ کس کا تھا جواسٹیڈیمز کی تزئین وآرائش پر لگا۔ چیئرمین پی سی بی کی عدم شرکت پر کرکٹ بورڈ کے تمام آڈٹ اعتراضات مؤخرکرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو طلب کرلیا۔

جنید اکبر نے کہا کہ دیکھتے ہیں کہ وزیراعظم کے بلانے پر نہ آنے والے محسن نقوی پی اے سی میں آتے ہیں یا نہیں، پی اے سی نے چیمپئینز ٹرافی کے دوران ہونے والے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

نیپرا نے پرفارمنس آڈٹ پر اعتراض اٹھایا ہے، چئیرمین پی اے سی

چیئرمین پی اے سی نے بتایا کہ نیپرا نے پرفارمنس آڈٹ پر اعتراض اٹھایا ہے، نیپرا کے مطابق ان کے پاس عدالتی اختیارات ہیں جن کا پرفارمنس آڈٹ نہیں ہوسکتا، آڈیٹر جنرل نے کہا کہ نیپرا نے پارلیمانی خود مختاری کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے، نیپرا نے پرفارمنس آڈٹ کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا، پی اے سی کی ہدایت پر پرفارمنس آڈٹ کیلئے گئے،ہم سپریم کورٹ میں گئے لیکن وزارت قانون نے ہمیں وکیل تک مہیا نہیں کیا۔

سیکرٹری قانون کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 170 میں آڈٹ کا ذکر ہے،،پرفارمنس آڈٹ کا نہیں، ہائیکورٹ فیصلے کے مطابق پی اے سی کو ہدایات جاری کرنے کا اختیار نہیں۔

کمیٹی حکام نے کہا کہ قومی اسمبلی قواعد میں ترمیم کے بعد پرفارمنس آڈٹ کا اختیارآڈیٹرجنرل کودے چکی ہے۔

Similar Posts