خیبر پختونخوا؛ 4 برس میں بھتہ خوری کے کیسوں میں خطرناک حد تک اضافہ

0 minutes, 0 seconds Read

خیبر پختونخوا میں بھتہ خوری کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی دستاویزات کے مطابق گزشتہ چار سالوں میں بھتہ خوری کے کیسوں میں 193 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ سزا کی شرح صرف 2 فیصد رہی ہے۔

سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران بھتہ خوری کے 422 کیسز رجسٹرڈ ہوئے، جن میں 2021 میں 44، 2022 میں 73، 2023 اور 2024 میں 129، 129 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2025 کے پہلے دو ماہ میں 47 کیسز سامنے آئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کابینہ میں ردوبدل کا امکان، اسپیکر کو ہٹانے کی تیاریاں

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ 4 سالوں میں 433 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، لیکن صرف 9 کو سزائیں سنائی گئیں۔ 2022 میں 5 مجرموں، جبکہ 2024 میں 4 مجرموں کو سزا سنائی گئی، 2021 اور 2023 میں کسی بھی ملزم کو سزا نہیں ہوئی ہے۔

خیبر پختونخوا: نگراں دور حکومت میں 9 ہزار 762 بھرتی ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

ماہرین کے مطابق بھتہ خوری کے کیسز میں تیزی سے اضافہ اور مجرموں کو سزائیں نہ ملنا انصاف کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیموں کی جانب سے بھتہ خوری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، لیکن کمزور قانونی کارروائی کے باعث جرائم پیشہ عناصر بے خوف ہو کر متحرک ہیں۔

Similar Posts