بھارتی ریاست مغربی بنگال میں جادھو پور یونیورسٹی کے گیٹ نمبر تین کے ایک قریب ایک دیوار پر آزاد کشمیر اور آزاد فلسطین کے نعرے درج کیے گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ’آزاد کشمیر‘ اور ’آزاد فلسطین‘ نعرے تحریر کیے جانے کے بعد یونیورسٹی میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا۔
یہ واقعہ یکم مارچ کو ریاستی وزیر تعلیم برتیا باسو کے قافلے میں شامل کار کی ٹکر سے دو طلبا کے زخمی ہونے کے بعد جاری مظاہروں کے دوران پیش آیا ہے۔ وزیر تعلیم کے قافلے کی گاڑی کی ٹکر سے طلباء کے زخمی ہونے کے واقعے کے خلاف گزشتہ کئی دنوں سے یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ نعرے کس تنظیم کی طرف سے تحریر کے گئے ہیں۔ تاہم کولکتہ پولیس نے بائیں بازو کی طلبہ تنظیم پروگریسو ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے حامیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
کیمپس کے سربراہ کیشالے رائے نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی کیمپس میں غیر ملکی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا کہ انتظامیہ یونیورسٹی میں امن اور جمہوری صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کرے تاکہ جادھوپور یونیورسٹی ریاست مخالف سرگرمیوں کا مرکز نہ بنے۔
دوسری جانب پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد کی جانچ کر رہی ہے تاکہ اس گرافیٹی کو پینٹ کرنے والوں کا پتہ چلایا جا سکے۔
یاد رہے کہ اکتوبر2024 میں بھی ایسے ہی نعرے دیکھے گئے تھے۔ جادھوپور یونیورسٹی کے قریب 8B بس اسٹینڈ کراسنگ پر ’ہمیں انصاف چاہیے‘ کے نعرے کے ساتھ ’کشمیر آزادی‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔
اس وقعے کے بعد ڈاکٹروں میں تشویش پھیل گئی۔ کولکتہ پولیس نے پٹولی پولیس اسٹیشن میں اس کا مقدمہ درج کیا تھا۔