زمین سے ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر ایک عجیب ساخت کا ستارہ دریافت

0 minutes, 0 seconds Read

کائنات کے راز آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آرہے ہیں اور وہاں وجود عجیب و غریب سیاروں اور ستاروں سے متعلق سائنسدان کچھ نہ کچھ نئی معلومات پیش کر رہے ہیں۔

جیسا کہ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ کائنات کے ایک دور دراز حصے میں ایک ایسا مردہ ستارہ پایا گیا ہے جس کی سطح پر کانٹے نما اجسام ابھرے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ستارہ زمین سے تقریباً 6,500 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ مردہ ستارہ حیرت انگیز طور پر گرم گندھک کے لمبے اجسام میں لپٹا ہوا ہے۔ فلکیات کا مطالعہ کرنے والوں نے تقریباً 900 سال قبل اس ستارے کے سُپرنووا میں تبدیل ہونے کی اطلاع دی۔

سیارہ زحل کے حلقے انسانوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوگئے، وجہ کیا ہے؟

مطالعے میں کہا گیا کہ یہ بات کسی کو نہیں معلوم نہیں کہ سُپرنووا دھماکے نے اس مردہ ستارے کے گرد یہ اجسام کیسے بنائے۔

ہارورڈ اینڈ سمتھسونین سینٹر فار ایسٹرو فزکس کے ماہر فلکیات ٹم کننگھم نے ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں اپنی نئی دریافت سے متعلق بتایا یہ سُپرنووا کی انتہائی عجیب باقیات کا مشاہدہ پہیلی کا ایک ٹکڑا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چینی اور جاپانی ماہرین فلکیات کی جانب سے پہلی بار اس سپرنووا کو 1181 میں آسمان میں ایک نئے ستارے کے طور پر مشاہدہ کیا گیا تھا۔ لیکن جدید فلکیاتی ماہرین کو سال 2013 تک مذکورہ ستارے کی باقیات نہیں ملیں، جسے اب Pa 30 نیبولا کہا جاتا ہے۔

انوکھا سیارہ، جہاں ایک سال صرف 30 گھنٹے کا ہوتا ہے

جب انہوں نے اس مردہ ستارے کی باقیات کو تلاش کیا تو یہ انہیں عجیب حالت میں ملا جو کہ سُپرنووا کی ایک قسم میں دکھائی دیا جسے ٹائپ 1 اے کہا جاتا ہے۔

اس قسم کے سپرنووا میں ایک سفید بونا ستارہ شامل ہوتا ہے جو دھماکے کے عمل میں خود کو تباہ کر دیتا ہے۔ لیکن اس پی اے 30 کے معاملے میں ستارے کا کچھ حصہ محفوظ رہا۔

Similar Posts