وائٹ ہاؤس: صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات، اے آئی سمیت اہم امور پر گفتگو
چینی صدر شی جن پنگ سرکاری دورے پر وائٹ ہاؤس پہنچے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے ان کا اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے الگ الگ خطابات میں امریکا چین تعلقات، تجارت، مصنوعی ذہانت اور باہمی تعاون پر بات کی، جس کے بعد دونوں دوطرفہ ملاقات کے لیے روانہ ہوگئے۔
چینی صدر شی جن پنگ سرکاری دورے پر وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان کا باضابطہ استقبال کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ ملاقات بھی طے ہے، جب کہ شام کو شی جن پنگ کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ دیا جائے گا۔
استقبالیہ تقریب کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ کے دورے کے دوران مصنوعی ذہانت کے مستقبل، سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی سمیت اہم امور پر بات ہوگی۔ ٹرمپ نے اے آئی کے لیے ’’سپر انٹیلیجنس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ آج کیے جانے والے فیصلے آنے والی کئی دہائیوں تک امن اور خوشحالی کو فروغ دے سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے امریکا اور چین کے درمیان تجارت میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کو درپیش مسائل پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے مئی میں اپنے دورہ بیجنگ اور نئے ’’بورڈ آف ٹریڈ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا اور چین کے درمیان غیر حساس اشیا کی تجارت کو آگے بڑھانے کے لیے بنایا گیا طریقہ کار ہے۔

امریکی صدر کے مطابق دونوں ممالک کی ٹیمیں تجارتی تعلقات میں زیادہ توازن پیدا کرنے کے لیے کام کررہی ہیں، جس میں امریکی کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی بھی شامل ہے۔
بعد ازاں چینی صدر شی جن پنگ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوب صورت امریکا کا دورہ کرکے خوش ہیں اور 1.4 ارب سے زائد چینی عوام کی جانب سے امریکی عوام کو نیک خواہشات پیش کرتے ہیں۔
شی جن پنگ نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی دعوت پر امریکا آئے ہیں تاکہ دوستی جاری رکھی جائے، تعاون کو وسعت دی جائے اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کو فروغ دیا جائے۔

چینی صدر نے کہا کہ چین اور امریکا پر انسانی ترقی اور پیش رفت کو آگے بڑھانے کی تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین امریکا تعلقات کے بڑے جہاز کو مستقبل کی جانب مستحکم راستے پر گامزن رکھنے کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں۔
شی جن پنگ نے دونوں ممالک کے درمیان رابطے مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکا کے قومی حالات مختلف ہیں، تاہم کھلے، گہرے اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کو بہتر سمجھ سکتے ہیں، اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے مشترکہ بنیاد تلاش کرسکتے ہیں اور باہمی اعتماد کو فروغ دے سکتے ہیں۔
چینی صدر نے یہ بھی کہا کہ ان کے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ذاتی تعلق اور رابطہ قائم ہوا ہے۔ شی جن پنگ نے امریکا اور چین کے درمیان مسابقت کو صحت مند رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو امن کے ساتھ رہنا چاہیے۔

ان کے مطابق تعاون سے دونوں ممالک فائدہ اٹھائیں گے جب کہ محاذ آرائی دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مقابلہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ ہونا چاہیے، ایسی کشمکش نہیں جس میں ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار ہو۔
چینی صدر نے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے رابطہ کاری کے طریقہ کار بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کو ’’تھوسی ڈائیڈز ٹریپ‘‘ سے بچنے کی ضرورت ہے۔
اے آئی کے بارے میں شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دنیا کی نمایاں طاقتیں ہیں اور دونوں کی ذمہ داری ہے کہ اے آئی کو انسانوں کی بھلائی کے لیے ترقی دی جائے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی انسانی کنٹرول میں رہنی چاہیے اور اسے عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

شی جن پنگ نے امریکی کمپنیوں کو چین میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکا میں چینی کمپنیوں کے ساتھ بھی منصفانہ برتاؤ کیا جائے گا۔
چینی صدر نے کہا کہ چین اور امریکا کو انسانی ترقی اور پیش رفت آگے بڑھانے کی تاریخی ذمہ داری حاصل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے مضبوط کرکے باہمی اعتماد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اپنے ابتدائی خطابات کے بعد دوطرفہ ملاقات کے لیے الگ نشست کی جانب رخ کیا۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنما مزید ریمارکس دیں گے، جب کہ دن کے اختتام پر شی جن پنگ کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ بھی دیا جائے گا۔