چین ایران کو جنگ کے دوران ڈرون اور میزائلوں کے پرزے فراہم کرتا رہا ہے: وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ

امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی سپلائرز نے رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں ایرانی وزارتِ دفاع کو ڈرون اور میزائلوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے آلات کی تقریباً 1300 کھیپیں فراہم کی ہیں۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے چینی صدر شی جن پنگ امریکا میں ہی موجود ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایرانی کسٹمز کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوری 2025 سے جون 2026 کے دوران ایران کی دفاعی کمپنیوں اور وزارتِ دفاع کو بیرون ملک سے ہزاروں شپمنٹس موصول ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق تہران پہنچنے والی اِن شپمنٹس میں جی پی ایس ڈیوائسز، الیکٹرک موٹرز اور طیاروں کے انجن کے پرزے شامل تھے جو ممکنہ طور پر فوجی ڈرونز اور میزائلوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 17 جون یعنی امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کے معاہدہ کے دن بھی ان ہی آلات کی ایک بڑی کھیپ ایران پہنچی تھی۔ اس کے دو دن بعد ہی مزید شپمنٹس موصول ہوئیں جن میں 60 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کے ڈرون کے پرزے شامل تھے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق فروری میں جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل چین نے ایرانی وزارت دفاع کو 300 ٹن کیمیائی مرکبات بھی فراہم کیے جو بیلسٹک میزائلوں کے لیے ایندھن تیار کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جب امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران تک سمندری راستے سے رسائی مشکل ہوئی تو مارچ سے اپریل کے آخر تک ایرانی فضائی کمپنی ’مہان ایئر‘ نے چینی شہر بیجنگ، شنگھائی اور گوانگژو سے تہران کے لیے اپنی ہفتہ وار پروازیں 4 سے بڑھا کر 27 کر دیں، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اضافہ ممکنہ طور پر مسافروں کے بجائے کارگو کی ترسیل کے لیے کیا گیا تھا کیوں کہ ان میں سے بعض پروازیں مسافروں کے لیے دستیاب نہیں تھیں۔

واضح رہے کہ ایران جنگ کے دوران بھی امریکی قیادت میں چین کی جانب سے تہران کی مبینہ مدد کے حوالے سے بیانات سامنے آئے تھے، جن میں سے ایک امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ تھے جنہوں نے چین اور روس پر ایران کو مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے بھی اس حوالے سے بیانات دیے تھے تاہم بعد میں انہوں چینی صدر شی جن پنگ کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ انہوں نے ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی یقین دہانی کرائی اور انہیں چینی صدر پر اعتماد ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امریکا کے دورے پر پہنچ چکے ہیں، جہاں خود صدر ٹرمپ نے ان کا شاندار استقبال کیا ہے۔

چینی صدر کے دورہ امریکا میں انکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سمیت کئی اہم معاملات پر مذاکرات طے ہیں جس میں تجارت، مصنوعی ذہانت اور تائیوان کے علاوہ چین کی جانب سے ایران کی حمایت کا معاملہ بھی زیرِ غور آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

Related posts