پنجاب کے شہر فیصل آباد میں لوٹ مار کے بعد خاتون سے ڈاکوؤں کی اجتماعی زیادتی کے مقدمہ میں نامزد ایک ملزم گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا جبکہ پولیس نے باقی ملزمان کی تلاش شروع کردی۔
فیصل آباد میں ڈاکوؤں نے دوران واردات بعد خاتون کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کے مقدمہ میں پولیس نے نامزد ایک ملزم کو گرفتار کرکے دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کر دیئے ہیں۔
تھانہ ساندل بار کے علاقے چنن کے کا رہائشی عدنان اپنی اہلیہ کے ساتھ جا رہا تھا، جب وہ موٹروے پل کے قریب پہنچے تو 3 نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے ان کو روک لیا، ان سے نقدی اور موبائل فون چھیننے کے بعد ان کو گنے کے کھیت میں لے گئے جہاں پر ڈاکوؤں نے شوہر کو درخت کے ساتھ رسیوں سے باندھ کر اس کی بیوی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے۔
واقعہ کے بعد زیادتی کا شکار خاتون اور اس کے شوہر کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا تھا۔ جس میں شوہر نے ایک ملزم علی شیر کو نامزد کیا تھا۔ جس پر پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے ملزم علی شیر کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے، واقعہ کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔
یاد رہے کہ فیصل آباد میں موٹروے کے قریب سڑک پر اجتماعی زیادتی کی گھناؤنی واردات سامنے آئی ہے۔
پولیس کے مطابق اجتماعی زیادتی کا واقعہ موٹر وے کے قریب ساندل بار میں 2 روز قبل پیش آیا، جس کا مقدمہ 3 افراد کے خلاف درج کیا گیا۔
سرگودھا میں بیرون ملک نوکری کا جھانسہ دے کر لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی
خاتون کے شوہر کے مطابق ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر ہمیں چنن کے قریب روکا اور مجھے درخت کے ساتھ باندھ کربیوی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور موبائل فونز اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔
پولیس کے مطابق خاتون کا میڈیکل اور جائے وقوعہ کا جیو فارنزک کرا لیا گیا ہے، 6 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔
موٹروے ریپ کی طرز کا ایک اور المناک واقعہ، لڑکی سے اجتماعی زیادتی
پولیس کے مطابق مدعی مقدمہ نے ایک ملزم کی نشاندہی بھی کی ہے، متاثرہ خاتون کے شوہر نے علی شیر نامی ملزم کو نامزدکیا ہے۔
خاتون کے شوہر کے مطابق 2 ڈاکوؤں کے فون کرنے پر آنے والا ساتھی علی شیر تھا، علی شیر بھی اجتماعی زیادتی کرنے والوں میں شامل تھا۔