جب ایک اخبار نویس نے جرات کرکے ان کی روایتی برہمی مزاج کا خیال نہ کرتے ہوئے انھیں کل کی گالی گفتار پر متوجہ کیا تو فرمایا ’’ہاں! مجھے معلوم ہے مگر مجھے اس پر کوئی افسوس نہیں۔‘‘ گویا ایک عالمی سطح کے لیڈر کا اس انداز گفتگو پر مائل ہونا ان کے نزدیک کسی اعتراض کے لائق بات نہیں۔
ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ اب تک دنیا کے کتنے لیڈروں کو ان کی ذہنی بدحالی کے باعث اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے مگر یہ بات ہماری طرح ہر شخص کے علم میں ہے کہ ملکی سربراہان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے امتحانات وقفہ وقفہ سے ہوتے رہتے ہیں۔ امریکی قوم کو اپنے سربراہ کی ذہنی صحت کی فکر کرنی چاہیے کیوں کہ جس ذہنی کیفیت کا وہ اظہار کررہے ہیں وہ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز رہنے کے لیے ہرگز مناسب نہیں ہے۔
وہ نہ صرف اس اعلیٰ عہدے کے منصب کے خلاف انداز گفتگو اور طرز فکر اختیار کرچکے ہیں بلکہ اپنے آپ کو اس عہدے کے لیے نامناسب ترین شخص ثابت کرچکے ہیں۔ وہ ایران جیسے چھوٹے ملک کو جس طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اسے جہنم میں جھونک دینے اور ایک دن میں تباہ و برباد کردینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں وہ کسی صحیح الدماغ آدمی کا وطیرہ نہیں ہوسکتا، بلکہ وہ بجا طور پر جنگی جرائم کی تعریف میں آتا ہے۔
امریکا کا بغل بچہ اسرائیل بھی اس نوعیت کے جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔ فلسطین کے جس علاقے پر اسرائیل نے اپنا ناجائز تسلط قائم کیا ہے ۔ وہاں فلسطینی بچوں کی حالت زار کی کچھ کہانیاں چھپ چھپا کر اخبارات میں در آئی ہیں۔ اہل فلسطین کی نسل کشی تو اسرائیل کے مقاصد میں شامل ہے اب اس نے نسل کشی کا یہ انداز اختیار کیا ہے کہ بچوں کو مظالم اور بدحالی کا شکار کرکے کہیں کا نہیں چھوڑ رہا ہے۔
عالمی ضمیر یا تو اس صورت حال سے پوری طرح آگاہ نہیں ہے یا پھر اسے اس کی مطلق پرواہ نہیں ہے اور فلسطین کے بچے سسک سسک کر جان دے رہے ہیں۔ ایک طرف امریکا وحشیانہ بم باری کرکے اہل ایران کی تنہائی کا فائدہ اٹھارہا ہے تو دوسری طرف اسرائیل اپنے زیر قبضہ علاقوں میں انسانیت سوز سلوک کے ذریعہ فلسطین کے بچوں کو زندگی سے بے زار کرنے پر تلا ہوا ہے ۔
اہل فلسطین پر دو طرفہ بلکہ سہ طرفہ مصائب حملہ آور ہیں امریکا اور اسرائیل ان پر حملہ آور ہیں اور ان پر تباہی کا ہر ممکن ذریعہ استعمال کرنے پر آمادہ ہیں تو دوسری طرف مسلم امہ کی بے اعتنائی انتہائی افسوس ناک صورت اختیار کرچکی ہے۔ مسلم اتحاد کا وہ خواب جو علامہ اقبال اور قائداعظم نے دیکھا تھا وہ چکنا چور ہوچکا ہے۔ ایک اکیلا ایران دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکا سے نبرد آزما ہے۔ امریکا جو خود کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اب اسرائیل کی کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔ وہ اسرائیلی مقاصدکی تکمیل کے لیے پوری طرح نہ صرف اس کی ہم نوائی کررہا ہے بلکہ اپنی قوت و طاقت کو پوری طرح اسرائیل کے حوالے کرچکا ہے۔
دشمنوں کی دشمنی اپنی جگہ مسلم ہے۔ امریکا نے جس طرح ایران کو دھمکیاں دے کر مفلزاد گالیاں دے کر مخاطب کیا ہے اس کی توقع کسی نیم مہذب شخص سے بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔ اب وہ بڑی بہادری کے ساتھ گھنٹے گن رہا ہے کہ ایران کے صدیوں پرانے کلچر کے فنا کا وقت کتنے گھنٹے رہ گیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک چہرہ پوشی کی صورت یہ نکالی ہے کہ اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ ہم ایران میں ’’رجیم چینج‘‘ کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اب یہ مسٹر ٹرمپ کی خوش فہمی ہے یا خام خیالی، کیونکہ ایران میں اس تبدیلی کو مسٹر ٹرمپ کے علاوہ کسی نے بھی محسوس نہیں کیا،لیکن انتہائی خطرناک گھنٹوں کے اواخر میں ایران کے ایک اقدام نے رجیم میں تو تبدیلی پیدا نہیں کی البتہ صورت حال کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔
اب تک ایران مشرق وسطیٰ کے ان ممالک پر جو اپنے تحفظ کے لیے امریکا پر انحصار کیے ہوئے تھے اور جنہوں نے اپنے تحفظ کے نام پر وہاں امریکی فضائیہ کے اڈے قائم کر رکھے تھے ان پر ایران نے حملے کیے تھے، مگر یہ احتیاط ملحوظ رکھی تھی کہ ان حملوں کا نقصان امریکا کو ہو، مسلم ممالک کو نہیں مگر جنگی صورت حال میں ذرا سی غلطی تباہی کا سبب بن سکتی ہے اور ایران نے سعودیہ کے ایسے وسائل پر حملے شروع کردیے جو سعودی حکومت اور عوام کے مفاد کے مطابق تھے۔ اب پاکستان کو بھی ایران نے ایک مصیبت میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان نے سعودیہ کو تحفظ فراہم کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے اور سعودیہ حرمین شریفین کے تحفظ کا ذمے دار بنا دیاگیا ہے پھر دونوں ملکوں میں ایسا معاہدہ موجود ہے کہ اگر کوئی ملک سعودیہ پر حملہ آور ہو تو پاکستان اس کی مدد اور اس کا تحفظ کرے گا۔
اب ایران کا یہ حالیہ اقدام جس کے تحت ایران نے سعودیہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی پروا کیے بغیر امریکی اڈوں پر دھاوا بول دیا۔ اب پاکستان بڑی بری پوزیشن پر آگیا۔ کیا وہ سعودیہ کے تحفظ کی خاطر اس جنگ میں کود پڑے اور امن کی جو کوششیں پاکستان کے رہنما راتوں کوجاگ جاگ کر انجام دے رہے تھے، انھیں نظر اندازکردیں پھر پاکستان نے امن کے سفیر کی جو حیثیت اپنی کامیاب سفارت کاری سے حاصل کی ہے خاک میں مل جائے گی۔دراصل جنگی صورت حال میں اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ٹھنڈے دل سے فیصلے کرنا ہوتے ہیں ورنہ نتائج تباہی ہوتی ہے۔