4

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت 12 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت تمام 12 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کی زیر سربراہی مقدمے کی سماعت کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت دیگر ملزمان کو پیش کیا گیا۔

مرکزی ملزم سمیت چھ ملزمان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کچہری عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ضمانت پر موجود تھراپی ورک کے 6 ملزمان بھی عدالتی نوٹس پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔

ملزم کے وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ذاکر جعفر کے خلاف ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ فرد جرم عائد کی جائے۔

دلائل کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے متعدد بار مداخلت کی کوشش کی اور رضوان عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا کیس کیسے لڑ سکتے ہیں۔

تاہم وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ میں اس نوجوان کا وکیل نہیں ہوں اور یہ بار بار مجھے تنگ کر رہا ہے۔

علاوہ ازیں ملزم ذاکر جعفر نے فرد جرم کی کارروائی روکنے کی درخواست دائر کی تھی۔

ان کے وکیل رضوان عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت میں پیش شواہد کا ذاکر جعفر سے تعلق نہیں بنتا لہٰذا ان شواہد کی بنا پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔

اس موقع پر شوکت مقدم کے وکیل نے کہا کہ شواہد کا جائزہ ٹرائل میں لیا جا سکتا ہے، فرد جرم عائد کی جا رہی سزا نہیں سنائی جا رہی۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ملزم کی درخواست مسترد کر کے فرد جرم عائد کرے۔

دلائل کے دوران ظاہر جعفر نے ایک مرتبہ پھر مداخلت کی اور تھیراپی ورکس والوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندے میرے گھر داخل ہوئے، میری زندگی خطرے میں اور یہ میری جائیداد کا ذکر کر رہے ہیں، میری جائیداد سے متعلق یہاں بات نہ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ نور مقدم میری دوست تھی لہٰذا آپ کیوں مداخلت کر رہے ہیں، نور قربان ہونا چاہتی تھی اور خود کو قربانی کے لیے پیش کیا۔

ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں مقتولہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میری زندگی خطرے میں ہے، مجھ پر رحم کریں۔

اس دوران ملزم ظاہر جعفر نے عدالت سے بار بار فون کال کرنے کی اجازت دینے کی بھی استدعا کی۔

دوران سماعت ظاہر جعفر کے ملازم ملزم افتخار نے کمرہ عدالت میں روتے ہوئے کہا کہ نور کا دو سال سے آنا جانا تھا اور مجھے نہیں علم تھا کہ یہ ہو گا۔

بعدازاں عدالت نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر، ذاکر جعفر، عصمت آدم، افتخار، جمیل، جان محمد سمیت 12ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔

جن ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ان میں تھیراپی ورکس کے طاہر ظہور سمیت دیگر چھ ملزمان بھی شامل ہیں لیکن ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

عدالت نے استغاثہ کے گواہ 20 اکتوبر کو طلب کر لیے اور ہائی کورٹ کے حکم پر دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے حکم پر عمل درآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔

کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ 20 جولائی کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف۔7/4 کے رہائشی سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی بیٹی 27 سالہ نور کو قتل کر دیا گیا تھا۔

ظاہر ذاکر جعفر کے خلاف مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی جس کے تحت ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

بعدازاں عدالت میں پیش کردہ پولیس چالان میں کہا گیا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ساتھیوں کی ملی بھگت کے باعث نور مقدم نے جان بچانے کی 6 کوششیں کی جو ناکام رہیں۔

وقوعہ کے روز 20 جولائی کو ظاہر جعفر نے کراچی میں موجود اپنے والد سے 4 مرتبہ فون پر رابطہ کیا اور اس کے والد بھی اس گھر کی صورتحال اور غیر قانونی قید سے واقف تھے۔

چالان میں کہا گیا کہ نور کی جانب سے ظاہر سے شادی کرنے سے انکار پر 20 جولائی کو دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد مبینہ قاتل نے انہیں ایک کمرے میں بند کردیا، چالان میں ملزم کے بیان کا حوالہ دیا گیا جس میں اس نے قتل کا اعتراف کیا۔

ملزم نے بتایا کہ نور مقدم نے اس کی شادی کی پیشکش مسترد کردی تھی جس پر اس نے انہیں ایک کمرے میں بند کردیا، جبری قید پر وہ انتہائی غصے میں آگئیں اور ظاہر کو نتائج سے خبردار کیا۔

مقتولہ نے ظاہر کو دھمکی دی کہ پولیس میں جا کر اس کے خلاف شکایت درج کروائیں گی، بیان کے مطابق ملزم نے اپنے والدین کو واقعے سے آگاہ کیا اور ملازمین کو ہدایت کی کہ کسی کو اندر نہ آنے دیں نہ نور کو گھر سے باہر جانے دیں۔

چالان میں کہا گیا کہ نور کمرے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھیں اور گھر کے مرکزی دروازے کی طرف بھاگیں لیکن سیکیورٹی گارڈ افتخار نے انہیں باہر نہیں جانے دیا، یہ وہ موقع تھا جب ان کی جان بچائی جاسکتی تھی۔

کال ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے چالان میں کہا گیا کہ نور کو قتل کرنے سے قبل ظاہر نے دوپہر 2 بج کر 21 منٹ، 3 بجے، 6 بج کر 35 منٹ اور شام 7 بج کر 29 منٹ پر اپنے والدین سے رابطہ کیا۔

دوسری جانب شوکت مقدم کی درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق ان کے پوچھنے پر ظاہر جعفر نے کال کر کے بتایا کہ نور اس کے ساتھ موجود نہیں۔

تاہم 20 جولائی کو رات 10 بجے انہیں کوہسار پولیس اسٹیشن سے ایک کال موصول ہوئی جس میں انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی قتل ہوگئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب میں اس گھر پہنچا تو اپنی بیٹی کی گلا کٹی لاش دیکھی جس کے بعد پولیس میں شکایت درج کروائی‘ ۔

25 جولائی کو پولیس نے نور مقدم کے قتل کے مشتبہ ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور گھریلو ملازمین کو شواہد چھپانے اور جرم میں اعانت کے الزامات پر گرفتار کیا تھا جنہیں بعد میں عدالت نے جیل بھیج دیا تھا۔

اس کے علاوہ اس کیس میں تھراپی ورکس کے مالک اور ملازمین بھی گرفتار ہوئے جنہیں عدالت نے 23 اگست کو رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

مقامی عدالت سے ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن 29 ستمبر کو ہائی کورٹ نے بھی ملزم کے والدین کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی تھی۔

جس پر انہوں نے 6 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں