عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پیٹر مینڈیلسن امریکا میں بطور برطانوی سفیر تعینات رہے اور اسی دوران ان کے ایپسٹین سے گہرے روابط سامنے آئے تھے۔
گزشتہ برس جب یہ معاملات منظرِ عام پر آئے تو انھیں سفارتی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔
برطرفی کے فوری بعد پیٹر مینڈیلسن نے ایوانِ بالا کی رکنیت بھی چھوڑ دی تھی اور بعد ازاں اپنی جماعت لیبر پارٹی سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔
ان پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ وزیرِ اعظم گورڈن براؤن کی حکومت میں بطور وزیر خدمات انجام دیتے ہوئے جیفری ایپسٹین کو حساس نوعیت کی سرکاری دستاویزات فراہم کرتے رہے۔
تحقیقات میں بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے ان کے تعلقات سے متعلق ٹھوس شواہد ملنے پر آج انھیں باضابطہ گرفتار کرلیا گیا۔
برطانیہ کے سابق سفیر اور حکمراں جماعت کے سینئر سیاست دان پیٹر مینڈیلسن پر لندن پولیس نے ابتدائی الزام عہدے کے غلط استعمال کا لگایا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق 72 سالہ پیٹر مینڈیلسن کو شام ساڑھے چار بجے گرفتار کیا گیا جب کہ رات گئے مزید تفتیش کے بعد انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی ہے جب چند روز قبل ایپسٹین اسکینڈل میں پرنس اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونزر کی گرفتاری اور بعد ازاں رہائی کی خبریں سامنے آئی تھیں۔
شاہ چارلس سوم کے چھوٹے بھائی پرنس اینڈریو پہلے ہی اس اسکینڈل کے باعث شدید عوامی اور عدالتی دباؤ کا سامنا کر چکے ہیں۔