اے ڈی پی کی جانب سے جاری ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی شرح نمو رواں مالی سال میں 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو حکومتی ہدف سے کم ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ساختی مسائل حل کیے بغیر تیز رفتار ترقی کی کوشش معیشت کیلیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق 413 ارب روپے کا فرق دراصل کیش اور سول اکاؤنٹنگ کے درمیان فرق ہے جسے پہلے ہی آئی ایم ایف کو رپورٹ کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خاص طور پر طویل تنازع، عالمی منڈی میں تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ آئے گا۔
اے ڈی پی نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں اصلاحات نہ کیں تو معاشی استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ادارے نے نجکاری، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکس نظام میں بہتری پر زور دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق آئندہ مہینوں میں مہنگائی بڑھ کر مرکزی بینک کے ہدف( 5 سے 7 فیصد) کی حد سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ اوسط مہنگائی 6.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
کنٹری ڈائریکٹر فین ایما کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آیا ہے، اصلاحات کے باعث بہتری کے آثار ہیں، تاہم عالمی خطرات کے پیش نظر محتاط پالیسیوں کی ضرورت ہے۔