آئی ایم ایف کا مزید افراد کو پیٹرول سبسڈی نہ دینے پر زور
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں، جن میں صحت اور تعلیم کے اخراجات سمیت مختلف مالی معاملات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ وہیں آئی ایم ایف نے پاکستان میں پیٹرول سبسڈی جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والے صارفین کی تعداد نہ بڑھانے پر زور دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ملک بھر میں پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی فراہم کی گئی۔ اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگ چی رکشہ استعمال کرنے والوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر رعایت مقرر کی گئی تھی۔
بعد ازاں وفاقی حکومت نے یکم جنوری 2026 کے بعد رجسٹر ہونے والے موٹرسائیکل، رکشوں اور چنگ چی رکشوں کو بھی اسکیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر پانچ لیٹر سے کم پیٹرول ڈلوانے والے موٹرسائیکل، چنگ چی اور رکشہ صارفین کے لیے بھی ایک ٹوکن پر ہفتے میں 500 روپے تک کی رعایت مقرر کی گئی تھی، جبکہ ایک ماہ میں مجموعی طور پر 4 ٹوکن جاری کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مذاکرات میں صحت و تعلیم کے اخراجات کا مقررہ ہدف 4.2 ٹریلین روپے سے کم کرکے 3.9 ٹریلین روپے کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال صحت اور تعلیم کے اخراجات مقررہ ہدف سے 370 ارب روپے کم رہے، جبکہ صوبوں کی جانب سے صحت و تعلیم کے لیے مختص رقم بھی ہدف سے تقریباً 500 ارب روپے کم ہے۔ نئے 3.9 ٹریلین روپے کے ہدف کی صورت میں بھی تقریباً 200 ارب روپے کا فرق برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ اور پنجاب نے صحت و تعلیم کے اخراجات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں مشکلات سے آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا نے ہدف پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
مذاکرات میں آئی ایم ایف کی جانب سے صوبوں کی مقررہ ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق پنجاب نے صحت اور تعلیم کے لیے مجموعی طور پر 1.3 ٹریلین روپے، سندھ نے 1.1 ٹریلین روپے جبکہ خیبرپختونخوا نے 800 ارب روپے سے زائد مختص کیے ہیں۔ بلوچستان نے صحت و تعلیم کے لیے 268 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں الیکٹرک گاڑیوں پر دی جانے والی سبسڈی کم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ پیٹرول سبسڈی کے معاملے پر بھی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پیٹرول سبسڈی جاری رکھنے پر رضامند ہے، تاہم اس نے سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ نہ کرنے پر زور دیا ہے۔