ایرانی پاسداران انقلاب نے برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو نیا کمانڈر انچیف نامزد کردیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی اس سے قبل ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں شہید علی خامنہ ای کے جنگجو ساتھی کی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے۔
تقرری کے اعلان کے بعد برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ حکام کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی رضا اعرافی قیادت کونسل کے ممبر منتخب ہوگئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہا ہے کہ قیادت کونسل عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض انجام دے گی، علی رضا اعرافی ایرانی سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والی عبوری کونسل کے رکن مقرر ہو گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تین رکنی کونسل میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی چیف جسٹس بھی شامل ہیں، مجلس خبرگان رہبری کی جانب سے نیا سپریم لیڈرمنتخب کیے جانے تک یہ کونسل رہبر کے فرائض انجام دے گی۔
ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق رہبرِ اعلیٰ کی موت، استعفے یا برطرفی کی صورت میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان شوریٰ کے ایک رکن رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔
آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق اگر ان تین افراد میں سے کوئی ان ذمہ داریوں سے معذوری کا اظہار کرے تو پھر ان کی جگہ ’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ (فقہا کی اکثریت) ان کی جگہ نیا رکن مقرر کرے گی۔
اس کے بعد مرحلہ رہبرِ اعلیٰ کی تقرری کا آتا ہے۔ اس عہدے کے لیے کسی شخصیت کا انتخاب مجلس خبرگان رہبری کرتی ہے۔ یہ 88 فقہا کی ایک اسمبلی ہے، جس کے اراکین کا انتخاب ہر آٹھ برس کے بعد ہوتا ہے تاہم اس انتخاب سے قبل جانچ پڑتال کا کام نگہبان شوریٰ سرانجام دیتی ہے، جس میں سنہ 2024 میں خامنہ ای کے وفادار تمام نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
مجلس خبرگان رہبری کو ’جتنی جلدی ممکن ہو سکے‘ رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے لیے معیاد کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ اگر مجلس خبرگان رہبری دو تہائی اکثریت سے کسی کو رہبرِ اعلیٰ منتخب نہیں کرتی تو پھر تکنیکی طور پر عبوری کونسل ہی رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اُٹھاتی ہے۔