کھیل 

فٹبال کے ایک دور کا اختتام: میسی کے الوداعی تقریب نے مداحوں کی آنکھیں نم کر دیں

ارجنٹینا کے عظیم فٹبالر اور قومی ٹیم کے کپتان لیونل میسی کے آخری بین الاقوامی میچ سے قبل سابق اور موجودہ ساتھی کھلاڑیوں سمیت ہزاروں مداحوں نے انہیں جذباتی انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔ بیونس آئرس کے مونومینٹل اسٹیڈیم کے باہر موجود شائقین میں خوشی، فخر اور جدائی کا دکھ ایک ساتھ نظر آیا۔

ارجنٹینا کی قومی ٹیم کے ساتھ میسی نے اپنے 21 سالہ بین الاقوامی کیریئر کا جذباتی انداز میں اختتام کردیا۔ اسٹیڈیم میں 85 ہزار شائقین کے سامنے میسی نے اپنے آخری میچ میں گول بھی کیا اور ارجنٹینا نے بینن کو 3-0 سے شکست دے دی۔

39 سالہ میسی نے اپنے 208ویں بین الاقوامی میچ میں ارجنٹینا کی جانب سے 126واں گول کیا۔ انہوں نے پہلے گول کے لیے تجربہ کار نکولس اوٹامینڈی کو اسسٹ بھی فراہم کیا، جبکہ نیکو پاز نے بھی ایک گول کیا۔

تاہم اس میچ میں اصل توجہ نتیجے سے زیادہ میسی کی الوداعی تقریب پر رہی۔ ارجنٹینا کے شائقین نے اپنے عظیم ترین فٹبالرز میں شمار ہونے والے میسی کو آخری مرتبہ قومی ٹیم کی جرسی میں کھیلتے دیکھا۔ اس موقع کو ’دی لاسٹ ٹینگو‘ کا نام دیا گیا تھا۔

میچ سے قبل میسی اس وقت اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے جب ارجنٹینا کی ٹیم کو اسٹیڈیم تک لانے والی بس کے راستے میں بڑی تعداد میں شائقین موجود تھے۔ اسٹیڈیم پہنچنے کے بعد میسی اپنے تین بچوں کے ہمراہ میدان میں داخل ہوئے، جبکہ ان کی اہلیہ انٹونیلا روکوزو اور والدہ سیلیا کوچیٹینی وی آئی پی باکس سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔

میچ شروع ہونے سے کچھ دیر قبل میدان میں ارجنٹینا کی ایک بہت بڑی جرسی رکھی گئی، جس پر میسی کے معروف نمبر 10 کے اوپر ’Gracias‘ یعنی ’شکریہ‘ لکھا تھا۔ شائقین نے اس منظر کا زوردار نعروں اور تالیوں سے استقبال کیا۔

ارجنٹینا کے قومی ترانے کے موقع پر بھی میسی جذباتی ہوگئے۔ فاک لینڈز جنگ کے سابق فوجی فابیو سانتانا نے ان کے ساتھ قومی ترانہ گایا، جبکہ قریب ہی ایک بینر موجود تھا جس پر ’دی مالویناز ارجنٹینا کے ہیں‘ درج تھا۔ یہی بینر ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے انگلینڈ کے خلاف 2022 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں 2-1 کی فتح کے بعد بھی اٹھایا تھا۔

میسی کے معروف نمبر 10 کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے میچ کے 10ویں منٹ میں کھیل روک دیا گیا اور پورے ایک منٹ تک شائقین نے کھڑے ہوکر اپنے کپتان کو خراج تحسین پیش کیا۔

اس کے بعد میسی نے 71ویں منٹ میں پنالٹی پر گول کرکے اپنے آخری بین الاقوامی میچ کو بھی یادگار بنا دیا۔ میچ کے اختتام پر ڈرون شو کے ذریعے آسمان پر میسی کی تصاویر دکھائی گئیں اور ان کے شاندار کیریئر پر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

میسی کا یہ الوداع ارجنٹینا کی جانب سے ورلڈ کپ فائنل میں اسپین کے خلاف شکست کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد ہوا۔ نیو جرسی میں کھیلے گئے اس سخت مقابلے میں ارجنٹینا کو 1-0 سے شکست ہوئی تھی اور میسی میچ کے اختتام پر آنسوؤں کے ساتھ میدان سے باہر آئے تھے۔

اس شکست کے بعد میسی نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی پوری کوشش کی اور اب ان کے پاس دینے کے لیے کچھ باقی نہیں، جبکہ قومی ٹیم میں آنے والے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی موقع ملنا چاہیے۔

الوداعی میچ سے قبل یونیورسٹی آف بیونس آئرس نے ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن کے ہیڈکوارٹر میں ایک تقریب کے دوران میسی کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی دی۔ میسی نے اس اعزاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مذاقاً کہا کہ اب وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ’اعزازی ڈاکٹر‘ ہیں۔

ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن کے باہر شائقین نے میسی کی تصویر کے ساتھ ایک بہت بڑا ارجنٹینا کا پرچم بھی لہرایا، جس پر لکھا تھا ’میری زندگی کی خوشی‘۔

میسی کے سابق بارسلونا ساتھی نیمار نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ نیمار نے کہا کہ صرف ارجنٹینا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میسی کی شکر گزار ہے کہ انہوں نے فٹبال کے لیے بہت کچھ کیا اور انہیں فٹبال سے مزید محبت کرنے پر مجبور کیا۔

میسی کے قریبی دوست اور ارجنٹینا کے ساتھی کھلاڑی روڈریگو ڈی پال نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ میسی کا اثر صرف فٹبال تک محدود نہیں رہا۔ ڈی پال، جو میسی کے ساتھ انٹر میامی میں بھی کھیلتے ہیں، نے کہا کہ میسی نے انہیں صرف ایک فٹبالر کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک انسان کے طور پر بھی بہتر بنایا۔

ڈی پال کے مطابق میسی کی وجہ سے وہ بہتر انسان، بہتر کھلاڑی، بہتر ایتھلیٹ، بہتر والد اور بہتر دوست بنے۔ انہوں نے میسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں، میسی ان کے بھائی جیسے ہیں اور ان کا دل بہت بڑا ہے۔

ادھر بیونس آئرس میں ارجنٹینا اور بینن کے درمیان دوستانہ میچ دیکھنے کے لیے مونومینٹل اسٹیڈیم پہنچنے والے شائقین نے بھی میسی کے ساتھ اپنی جذباتی وابستگی کا اظہار کیا۔

27 سالہ میڈیکل طالب علم اسیاس زیناس نے میسی کی اہمیت کو صرف کھیل تک محدود نہیں سمجھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ارجنٹینا کے عوام کو حالیہ برسوں میں جو خوشیاں ملی ہیں، ان میں میسی کا بڑا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میسی نے ملک کے لیے کئی ٹائٹل جیتے، جبکہ ارجنٹینا مشکل معاشی حالات سے بھی گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں فٹبال لوگوں کے لیے ایک سہارا بن جاتا ہے، اس لیے میسی کو الوداع کہنے کے لیے اس موقع پر یہاں آنا ضروری تھا۔

میسی کا انٹر میامی کے ساتھ معاہدہ 2028 تک ہے، تاہم اپنے والد خورخے کی دو ماہ قبل وفات کے بعد وہ یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ شاید وہ توقع سے پہلے ہی فٹبال سے مکمل طور پر ریٹائر ہوجائیں۔

ارجنٹینا کی قومی ٹیم کے ساتھ میسی کا سب سے بڑا کارنامہ 2022 کا ورلڈ کپ ٹائٹل تھا، جب انہوں نے ٹیم کو 36 سال بعد تیسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے میں مدد دی۔ اس کامیابی نے انہیں ارجنٹینا کے لیجنڈ ڈیاگو میراڈونا کے بعد ملک کے سب سے بڑے فٹبال ستاروں میں مزید نمایاں مقام دلا دیا۔

میسی نے ارجنٹینا کو ورلڈ کپ جتوانے کے ساتھ دو مرتبہ کوپا امریکا کا ٹائٹل بھی دلایا۔ بینن کے خلاف آخری میچ سے قبل وہ قومی ٹیم کے لیے 125 گول اور 68 اسسٹس کے ساتھ ارجنٹینا کے ریکارڈ ہولڈر تھے۔

اپنے آخری بین الاقوامی میچ سے قبل میسی نے اپنے بارے میں مختصر مگر معنی خیز پیغام دیا، وہ سکون کے ساتھ رخصت ہو رہے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی طرف سے سب کچھ دے دیا۔

Related posts