نیم کی مسواک سے دانت صاف کرنا کتنا فائدہ مند ہے؟ جدید تحقیق سے قدیم روایت ثابت
آج کے جدید دور میں جہاں بازار طرح طرح کے ٹوتھ پیسٹس اور الیکٹرک برشز سے بھرے پڑے ہیں، وہیں روایتی طریقوں کی افادیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ دیہاتوں اور قصبات ہی نہیں بلکہ شہروں میں بھی قدرتی جڑی بوٹیوں خاص طور پر نیم کی مسواک کا استعمال آج بھی شوق سے کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا قدیم ورثہ ہے جو نہ صرف دانتوں کو چمکدار بناتا ہے بلکہ مجموعی منہ کی صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نیم کی مسواک واقعی دانتوں کے لیے فائدہ مند ہے اور کیا اسے ٹوتھ برش کا مکمل متبادل سمجھا جا سکتا ہے؟
نیم کی مسواک میں قدرتی طور پر ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جن میں جراثیم کے خلاف خصوصیات ہوسکتی ہیں۔ نیم کی نرم ٹہنی کو چبا کر اس کے ریشوں کو برش کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے ریشے دانتوں کی سطح پر موجود خوراک کے ذرات اور کچھ میل کو ہٹانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم صرف مسواک استعمال کرنے سے دانتوں کی ہر جگہ مکمل صفائی یقینی نہیں ہوتی، اس لیے اسے جدید دانتوں کی صفائی کا مکمل متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
آئیے جانتے ہیں کہ نیم کی ٹہنی سے دانت صاف کرنے کے کیا سائنسی اور روایتی فوائد ہیں، اس کے ممکنہ نقصانات کیا ہیں اور اسے استعمال کرنے کا درست طریقہ کار کیا ہے۔
نیم کی مسواک کے حیرت انگیز فوائد
نیم کے درخت کو قدرت نے بے شمار طبی خصوصیات سے نوازا ہے۔ نیم کے ریشے قدرتی کلینر کا کام کرتے ہیں۔ روزانہ باقاعدگی سے اس کا استعمال دانتوں کی سطح سے میل صاف کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
نیم میں قدرتی اینٹی بیکٹیریل (جراثیم کش) خصوصیات پائی جاتی ہیں جو مسوڑھوں کے انفیکشن، سوجن اور خون آنے کے مسائل کو روکنے میں مددگار ہیں۔
مسواک چبانے سے منہ میں تھوک کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جو قدرتی طور پر منہ کو صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
نیم کی تلخ اور معطر خوشبو منہ کے اندر موجود نقصان دہ بیکٹیریا کا خاتمہ کرتی ہے، جس سے سانس کی بدبو دور ہوتی ہے اور سارا دن تازگی کا احساس رہتا ہے۔۔
احتیاطی تدابیر اور ممکنہ نقصانات
اگرچہ نیم قدرتی چیز ضرور ہے اور اس کے بے شمار فوائد ہیں ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے غلط طریقے سے استعمال کرنے سے نقصان نہیں ہوگا۔ اگر نیم کی ٹہنی کو بہت زیادہ سختی یا زور سے دانتوں پر رگڑا جائے تو مسوڑھوں میں زخم ہو سکتے ہیں اور خون بھی بہہ سکتا ہے۔
بہت زیادہ رگڑنے سے دانتوں کی حفاظتی تہہ متاثر ہو سکتی ہے، جس سے دانتوں میں سرد و گرم لگنے کی حساسیت پیدا ہو سکتی ہے۔
لکڑی کی چھڑی ہر کونے تک آسانی سے نہیں پہنچ پاتی، اس لیے دانتوں کے درمیان خلاء میں خوراک کے ذرات اور پلاک جمع رہ سکتے ہیں، جو وقت کے ساتھ مسوڑھوں کی بیماری اور دانتوں میں کیڑا لگنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
اسی طرح سڑک کنارے یا آلودہ جگہ سے توڑی گئی ٹہنی کو بار بار استعمال کرنے سے منہ میں جراثیم پہنچ سکتے ہیں جو وہاں انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔
نیم کی مسواک بنانے اور استعمال کرنے کا درست طریقہ
اگر آپ نیم کی مسواک استعمال کرنا چاہتے ہیں تو صاف، نرم اور تازہ ٹہنی کا انتخاب کریں۔ اسے پانی سے اچھی طرح دھونے کے بعد ایک سرے کی تھوڑی سی چھال ہٹا کر اس حصے کو آہستہ آہستہ چبائیں، یہاں تک کہ اس کے ریشے نرم ہوکر برش جیسے بن جائیں۔
اب ان ریشوں سے بہت زیادہ زور دیے بغیر دانتوں کی بیرونی اور اندرونی سطح کو نرمی سے صاف کریں۔ آگے پیچھے رگڑنے کے بجائے ہلکے ہاتھ سے استعمال کریں اور مسوڑھوں پر بھی زیادہ دباؤ نہ ڈالیں۔
برش کرنے کے بعد استعمال شدہ ٹہنی کو دھو کر محفوظ رکھنے کے بجائے بہتر ہے کہ اسے ضائع کردیں اور ہر مرتبہ تازہ اور صاف ٹہنی استعمال کریں، خاص طور پر اگر پرانی مسواک گندی، خشک یا خراب ہوچکی ہو۔
دانتوں کی حفاظت کے لیے مسواک استعمال کرنے والے افراد بھی باقاعدگی سے دانتوں کے ڈاکٹر سے معائنہ کروا سکتے ہیں تاکہ دانتوں کے درمیان چھپی گندگی، ٹارٹر یا مسوڑھوں کے مسائل کا بروقت پتا چل سکے۔