ڈیل کرو ورنہ شدید بمباری کیلئے تیار ہوجاؤ، ٹرمپ کی جوہری معاہدے پر ایران کو پھر دھمکی

0 minutes, 0 seconds Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدے پر رضامند نہ ہوئے تو وہ فوجی کارروائی پر غور کریں گے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک حالیہ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران کو ایسی شدید بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے کبھی نہیں گئی ہوگی۔

یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ایک خط بھیجے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں نئے جوہری مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اگر ان کی تعمیل نہ کی گئی تو ممکنہ فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ کی ٹیرف جنگ کس طرح امریکیوں کیلئے ٹوائلٹ پیپر کا بحران لاسکتی ہے؟

ٹرمپ نے مزید ایران کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ایران پر ”ثانوی ٹیرف“ بھی نافذ کریں گے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے خط موصول ہونے کے باوجود ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کیا تھا۔

صدر مسعود پیزشکیان نے کہا تھا کہ ایران اس معاملے پر امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان سامنے آیا ہے، امریکہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔ جبکہ ایران اپنے جوہری مفادات اور خودمختاری کو ترجیح دیتے ہوئے ثابت قدم ہے۔

ٹرمپ کے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے بعد پورے یورپ کی افواج متحرک

واضح رہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کرچکا ہے لیکن بالواسطہ مذاکرات کو مسترد نہیں کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ براہ راست ہونے کی بجائے تیسرے فریق کے ذریعے مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

Similar Posts