فلسطینی طالبعلم غزہ سے نکل کر پاکستان تک کیسے پہنچے؟

0 minutes, 0 seconds Read

اس مرتبہ پاکستان میں ہمارے کچھ انتہائی خاص مہمان بھی موجود ہیں، جو عید الفطر اپنے پیاروں سے دور منانے پر مجبور ہیں، یہ مہمان ہیں غزہ کے وہ بچے جو تعلیم کی غرض سے اپنا وطن فلسطین چھوڑ کر پاکستان آئے تھے، لیکن پیچھے سے غاصب اور دہشتگرد صیہونیوں سے ان کا خاندان، گھر رشتہ دار اور زندگیاں سب اجاڑ دیں۔

ان بچوں نے آج نیوز کے پروگرام ”روبرو“ میں خصوصی شرکت کی اور بتایا کہ وہ تباہ حال غزہ میں کس طرح عید کی خوشیاں مناتے تھے۔

غزہ سے آئی نوجوان طالبہ سلسبیل نے بتایا کہ غزہ میں عیدین اور رمضان بہت مختلف ہوتے ہیں، ہم گھروں میں بیٹھ کر کھانے شئیر کرتے ہیں، دوسری فیملیوں کے ساتھ جشن مناتے ہیں اور میٹھی چیزیں بناتے ہیں.

انہوں نے بتایا کہ ہم عید کے پہلے دن سماقیہ بناتے ہیں جو بہت ہی خاص ڈش ہوتی ہے۔

پروگرام میں شریک ایک اور طالبہ نے بتایا کہ ہمارے یہاں کھانے کی ایک ڈش مقلوبہ ہوتا ہے جو چکن سبزی اور چاول سے بنتی ہے، اس کے علاوہ سخان اور درہ ہیں، یہ بھی چکن سے بنتی ہیں، ہماری یہاں سیدیاہ ڈش ہوتی ہے جو مچھلی سے اوون میں بنتی ہے۔ اس کے علاوہ کائیک ہوتی ہے جو بسکٹ اور کھجور سے بنتی ہے اور میٹھے کا حصہ ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ افطار میں سخان، مقروبہ، ارویذ، اوذی اور بہت سے سوپ ہوتے ہیں۔

ایک اور طالبہ نے بتایا کہ انہیں پاکستان میں بریانی بہت پسند ہے اور فلسطین میں بھی بریانی ایسی ہی ہوتی ہے، پاکستانی بریانی زیادہ مرچوں والی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں عدی پر اپنے خاص کھانے بناتی ہیں، سامان اگر مل جائے تو جتنا ممکن ہوسکے اتنا اپنا کھانا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

راشہ نامی ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے ہمیں ائیرپورٹ سے لے کر ہاسٹل تک پہنچایا، اور اب تک ہمیں بہت ہی والہانہ مزاج دیکھنے کو ملا ہے، ہماری سفر کی تھکاوٹ یہاں استقبال دیکھ کر دور ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ یہاں آنے سے پہلے مجھے پاکستان کے بارے میں کچھ معلومات تھیں، مجھے پتا تھا کہ پاکستان کثیرالثقافتی ملک ہے جس میں بہت سے ثقافتی مقامات اور قدرتی خوبصورت جگہیں ہیں۔ یہاں کا کھانا مجھے نہیں لگتا تھا کہ مزیدار ہوگا، لیکن یہ بہت اچھا ہے۔

احمد نامی طالبعلم نے بتایا کہ انہوں نے قورمہ، بریانہ ، پلاؤ اور چکن کڑاہی کھائی، لیکن مجھے بریانی زیادہ پسند آئی۔ انہوں نے بیف کڑاہی بھی کھائی جو انہیں کافی پسند آئی۔

راشہ نے سب کو بریانی پسند آنے پر کہا کہ شاید اس لئے کہ یہ ہماری ڈش سے ملتی جلتی ہے۔

ایک اور نوجوان طالبعلم اودے نے کہا کہ عید پر یہاں وہ مچھلی کھانا چاہیں گے جس کا نام رنگیا ہے، یہ مچھلی نمک میں بنتی ہے جو ہم لال لوبیا کے ساتھ ملاکر لیموں چھڑک کر اور تھوڑا سا نمک ڈال کر کھاتے ہیں۔

غزہ میں زندگی کیسی تھی؟

طالبہ نے بتایا کہ جنگ سے پہلے بھی غزہ میں ہماری زندگی آسان نہیں تھی، لیکن فیملی کے ساتھ اپنے رہنا محفوظ تھا، وہاں یونیورسٹی جانا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، ہمارے گولز تھے، ہمارے اپنے مستقبل کے پلانز تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی فیملی اب مصر میں ہے لیکن کچھ رشتہ دار اب بھی غزہ میں ہیں۔

سلسبیل نے بتایا کہ انہیں غزہ کا ساحل بہت یاد آتا ہے، ہمیں رات میں ساحل پر پیدل چلنا اچھا لگتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں کچھ جگہیں بہت خاص ہیں جیس کہ امام علی مسجد اور پرانی مارکیٹ، غزہ ایک بہت خاص شہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’انشاء اللہ ہم ایک دن ضرور واپس جائیں گے‘۔

غزہ سے نکل کر پاکستان تک کیسے پہنچے؟

اس سوال کے جواب میں طالبہ نے بتایا کہ یہ آسان نہیں تھا، پہلے ہم بہت سا پیسہ دے کر مصر پہنچے تھے، اور پھر مصر سے پاکستان آںے میں ہمارے لئے اسکار شپ کام آئی، ہمارا یہ سارا خرچہ الخدمت فاؤنڈیشن نے اٹھایا، اور اس طرح ہم غزہ سے مصر اور پھر مصر سے پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ میں موجود ہمارے رشتہ داروں سے ہمارا رابطہ نہیں ہوپاتا کیونکہ وہاں نیٹورک کے مسائل ہیں، بموں اور میزائلوں سے تمام کنیکٹیویٹی ختم ہوگئی ہے، ہمارے دلوں میں خوف رہتا ہے کہ انہیں کہیں کچھ ہونہ گیا ہو۔

’تعلیم ہی ریاست واپس دلائے گی‘

احمد نے کہا کہ ہمارے پاس اب اور کوئی آُشن نہیں بچا کہ ہم اپنی زندگی کیلئے لڑیں، ہمیں اپنی تعلیم کیلئے لڑائی کرنی ہے کیونکہ تعلیم ہی وہ کنجی ہے جو ہمیں ہماری ریاست واپس دلائے گی۔

اودے نے بتایا کہ میں جب مصر میں تھا تو میرے ایک دوست نے جو میڈیکل کا طالعلم تھا، بتایا کہ ایک اسکالر شپ آئی ہے، پھر میں نے ڈاکٹر یوسف سے رابطہ کیا اور اللہ کی طرف سے مجھے مدد ملی، اور پھر الخدمت نے مجھے سپورٹ کیا۔

Similar Posts