اسرائیلی پولیس نے رواں سال دوسری بار مقبوضہ بیت المقدس میں ایجوکیشنل بک شاپ پر چھاپہ مار کر دکان کے مالک عماد مونا کو گرفتار کر لیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اسرائیلی پولیس کا چھاپہ آج صبح 11:30 بجے کے قریب پڑا، جس کے بعد اسرائیلی پولیس نے دکان کی کتابیں اپنے قبضے میں لیں اور 61 سالہ مونا کو گرفتار کر لیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی بغیر کسی وارنٹ کے کی گئی جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت مذمت کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق دکان کے مالک کے بیٹے احمد مونا نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے بغیر کوئی قانونی کاغذات دکھائے اور جارحانہ انداز میں برطانوی آرٹسٹ بینکسی، نوام چومسکی اور مورخ الیان پاپے سمیت مشہور مصنفین کی کتابیں ضبط کرلیں اور دکان کو سیل کرنے کا حکم جاری کیا۔
اسرائیل کا جنگ بندی مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے وفد دوحہ بھیجنے کا اعلان
مشرقی بیت المقدس میں قائم یہ بک شاپ اسرائیل، فلسطین تنازع اور یروشلم کی تاریخ پر منفرد مواد فراہم کرنے کے لیے مشہور ہے۔
اسرائیلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ چھاپہ کتابی مواد کی جانچ کے لیے مارا گیا جو مبینہ طور پر امن عامہ میں خلل ڈال رہا تھا تاہم مالک نے اسرائیلی پولیس کے الزام کو مسترد کردیا۔
حماس کے بانی کی پیشگوئی، اسرائیل کا خاتمہ کس سال ہوگا؟
9 فروری کو اسی طرح کے واقعے کے بعد ایک ماہ میں کتابوں کی دکان پر یہ دوسرا چھاپہ تھا۔ اس چھاپے کے دوران احمد اور اس کے چچا محمود مونا کو گرفتار کیا گیا، اور 300 کے قریب کتابیں قبضے میں لے لی گئیں۔ اگرچہ یہ دکان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور قانونی کتابیں فروخت کرتی ہے، لیکن اسے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ احمد نے چھاپوں کو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے ان کارروائیوں کو ”غیر انسانی“ قرار دیا۔
دکان مالک نے اسرائیلی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ضبط کی گئی کتابیں اسرائیل کی نیشنل لائبریری میں بھی موجود ہیں، اگر اسرائیل کتابوں پر پابندی لگانا چاہتا ہے تو اسے ایک فہرست شائع کرنی چاہیے کہ کون سی کتابیں جائز اور کون سی ممنوع ہیں۔