خیبر پختونخوا بحران: مشاورت حتمی مرحلے میں داخل، حکومتی فیصلوں پر جلد عملدرآمد کا امکان

ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورتحال کے پیشِ نظر حکومتی سطح پر اہم اور حتمی فیصلوں کا عمل اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت اور وزیراعظم کے درمیان اہم ترین فیصلوں پر کامل اتفاقِ رائے قائم ہو چکا ہے اور دونوں اعلیٰ شخصیات کے درمیان فیصلہ سازی کے تمام عمل پر مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔

وزیراعظم ملک کی امن و امان اور سیاسی صورتحال پر اپنی مشاورتی ٹیم سے مسلسل اجلاس کر رہے ہیں اور اب تک سامنے آنے والی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت جلد ہی ان تمام اہم فیصلوں پر عملدرآمد شروع کر دے گی جن پر صدر اور وزیراعظم کا اتفاق ہوا ہے۔

اسی سلسلے میں حکومتی ٹیم نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے دوران سیاسی صورتحال اور مذاکرات پر انہیں بھی مکمل طور پر اعتماد میں لیا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی قیادت میں جانے والے وفد میں رانا ثنا اللہ اور طارق فضل چوہدری شامل تھے، جنہوں نے مولانا فضل الرحمان کو معاملے کی سنگینی اور وفاق کے تحفظات سے آگاہ کیا۔

سیاسی تناؤ میں کمی لانے کے لیے پسِ پردہ اور بیک ڈور رابطے بھی تیزی سے جاری ہیں تاکہ ملک کی بہتری کے لیے کوئی واضح سیاسی راستہ نکالا جا سکے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ بیک ڈور رابطے جاری ہیں اور ہم ملک کی بہتری کے لیے سیاسی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی کے تمام ساتھیوں سے فون پر رابطہ اور گفتگو ہوتی رہتی ہے اور مولانا فضل الرحمان ان کے لیے بھائیوں کی طرح ہیں۔

واضح رہے کہ اسپیکر ایاز صادق کی اس ملاقات سے قبل گزشتہ روز اپوزیشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر کے موجودہ سیاسی و حکومتی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی تھی۔

Related posts