گورنر سندھ نے ٹریفک حادثات پر آل پارٹیز کانفرنس کااعلان کر دیا

0 minutes, 0 seconds Read

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ زینب بیٹی کے واقعے کو نہیں بھولنے دوںگا۔ انصاف ملنے تک ان کی آواز بن کر زینب بیٹی کے اہل خانہ سے رابطے میں رہوں گا۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد فیصلہ سازی کی قوت میرے پاس نہیں ہے۔ ٹریفک حادثات پر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری واٹر ٹینکرکی ٹکرسے جاں بحق ہونے والی زینب کے گھر شاہ فیصل کالونی پہنچ گئے۔ گورنرسندھ نے زینب کے والد سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر ایم کیوایم رابط کمیٹی کے اراکین اور اہل محلہ بھی موجود ہے۔

گورنر سندھ کی کراچی میں ٹریفک حادثات پر چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ دیا

گورنرسندھ نے کہا کہ آج دکھی دل کے ساتھ زینب کے والد سے تعزیت کرنے آیا ہوں، پارٹی کے عہدیداروں کے ساتھ آیا ہوں، ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کے اراکین ہم یہاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عید سے قبل بھی میں زینب کے اہل خانہ سے ملنے آیا تھا، ہم نے عیدالفطرسادگی سے منانے کا اعلان کیا تھا۔ شہر میں ٹریفک حادثات پر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی پولیس سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ٹریفک حادثات پر بات چیت ہوئی ہے۔

کراچی میں ٹریفک حادثات میں شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے گورنر سندھ روپڑے

گورنر سندھ نے کہا کہ زینب بیٹی کا حادثہ تمام اکائیوں کو ہلا دینے والا واقعہ ہے۔ زینب اور اس کے شوہر کو پلاٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ پلاٹ کے کاغذات ان کے حوالے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹریفک حادثات کے متاثرین کو دو، دو کروڑ مالی مدد کے طور پر دینے چاہیے۔ میں حادثات کے حوالے سے آواز اٹھاںے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا بھی شکر گزار ہوں۔

مصطفی عامر قتل کیس کو انجام تک پہنچائیں گے، بااثر افراد کو پشت پناہی حاصل ہے، گورنرسندھ

کامران ٹیسوری نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد فیصلہ سازی کی قوت میرے پاس نہیں، تاہم شہر میں ٹریفک حادثات کے بعد واضع حکمت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سطع پر زینب بیٹی کے حوالے سے آواز بلند کروںگا، اسمارٹ سٹی نے ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کو اسی، اسی گز پلاٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر عمل در آمد جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں ہونے والے ٹریفک حادثات میں غیر مقامی افراد ملوث ہیں، حکومت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی بات کو سنجیدہ لے۔ ڈمپرز، ٹینکرز کے اوقات کار میں تبدیلی کی جائے۔

واضح رہے کہ کراچی میں گذشتہ دنوں ایک المناک حادثہ پیش آیا، جہاں ملیر ہالٹ بس اسٹاپ کے قریب ایک اور موٹر سائیکل سوار خاندان ہیوی ٹریفک کی زد میں آ گیا۔

پولیس کے مطابق شوہر عبدالقیوم اپنی اہلیہ زینب کو چیک اپ کرانے کے لیے موٹرسائیکل پر اسپتال لے جا رہا تھا، اس دوران پانی سے بھرے واٹر ٹینکر نے موٹر سائیکل سوار خاندان کو کچل دیا۔

حادثے کے نتیجے میں خاتون اور مرد شدید زخمی ہوئے، بعد ازاں خاتون اور مرد دم توڑ گئے، جاں بحق ہونے والے میاں بیوی تھے۔

پولیس کے مطابق 24 سالہ زنیب حاملہ تھی جس نے زخمی حالت میں بچے کو جنم دیا، موقع پر موجود لوگ بچے کو لیکر اسپتال کی طرف بھاگے لیکن بچہ بھی جانبر نہ ہو سکا۔

Similar Posts