ترکی میں ایک نئی نسل کے نوجوانوں نے صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک کی قیادت کرنا شروع کر دی ہے، جو ملک میں بڑھتی ہوئی آمریت کے خلاف تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی (رائٹر) کے مطابق ترکی میں جاری احتجاجی تحریک میں نوجوانوں کا موقف واضح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات سادہ ہیں، جمہوریت، احتساب اور ایک ایسا مستقبل جس میں وہ رہ سکیں۔ یہ مظاہرے اس وقت شدت اختیار کر گئے جب استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کو بدعنوانی کے الزامات میں جیل بھیج دیا گیا۔
نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک آزاد اور منصفانہ نظام کے تحت زندگی گزارنا چاہتے ہیں جہاں ان کی آواز سنی جائے۔ مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی کی 20 سالہ طالبہ ییزان آتیسیان نے کہا، ”ہمیں ایک ایسی حکومت چاہیے جو ہمارے مستقبل کی فکر کرے اور ہمارے حقوق کا تحفظ کرے۔“
مظاہروں میں شامل نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور اقتصادی مشکلات نے انہیں احتجاج کرنے پر مجبور کیا ہے۔ بلند افراط زر اور بیروزگاری کی وجہ سے ان کا مستقبل دھندلا گیا ہے، اور وہ ایک بہتر زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
احتجاج میں شریک نوجوانوں کا ماننا ہے کہ ان کی آواز کو نظرانداز کرنا ملک کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت عوامی احتساب کرے اور جمہوریت کی اصل روح کو بحال کرے تاکہ نوجوانوں کے لیے ایک محفوظ اور روشن مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔
ترکیہ: اکرم امام اوغلو کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں کشیدگی، احتجاج شدت اختیار کر گئے
نوجوان مظاہرین، جو 2013 میں گیازی پارک احتجاج کے دوران کریک ڈاؤن کو یاد کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ ان خطرات سے بے خوف ہیں اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے میں پرعزم ہیں۔
مظاہروں میں ہزاروں ترکوں نے امام اوغلو کی گرفتاری کے بعد سڑکوں پر آ کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرے عموماً پرامن رہے، لیکن اب تک 2,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نوجوانوں کی اقتصادی مشکلات بھی ان مظاہروں کا ایک بڑا سبب بنی ہیں۔ بلند افراط زر اور بیروزگاری نے نوجوانوں کو بے امیدی میں مبتلا کر دیا ہے، جس سے ان کا مستقبل خطرے میں محسوس ہو رہا ہے۔
25 سالہ دوگُو نے استنبول کے ایک جلسے میں کہا، ”میں نے 2024 میں گریجویشن کیا، لیکن مجھے روزگار نہیں مل رہا، اور میری فیملی مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔“
حکومت نے ان احتجاجی مظاہروں کو سیاسی مقاصد کے طور پر مسترد کیا ہے لیکن نوجوان قیادت ملک میں جمہوریت، احتساب اور ایک بہتر مستقبل کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔