امریکی فوجی کی سزائے موت براہِ راست نشر کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ میں اختلاف

امریکا میں فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر 13 افراد کو قتل کرنے کے جرم میں سزا پانے والے سابق فوجی ماہرِ نفسیات ندال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر دکھانے کے معاملے پر امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان اختلاف سامنے آگیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کے متعدد ارکان، مذہبی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس منصوبے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، جبکہ ٹرمپ نے تاحال اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعے کو کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ محکمہ دفاع سزائے موت کی کارروائی براہِ راست نشر کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا بھی تو وہ خود اسے نہیں دیکھیں گے۔

ندال حسن کی سزائے موت 3 دسمبر کو ٹیکساس کے اسی فوجی اڈے فورٹ ہڈ میں دیے جانے کا منصوبہ ہے جہاں انہوں نے 2009 میں فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ فوجی عدالت نے انہیں اس حملے کا مجرم قرار دیا تھا۔ 56 سالہ ندال حسن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں، کیونکہ گرفتاری کے وقت پولیس کی فائرنگ سے وہ زخمی ہوگئے تھے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ ندال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی اور اس کارروائی کو لائیو اسٹریم کیا جائے گا۔

ٹرمپ سزائے موت کے حامی، لائیو اسٹریم پر فیصلہ باقی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ندال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی حمایت کی ہے اور انہیں ذہنی طور پر غیر متوازن قرار دیا۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس کارروائی کو براہِ راست نشر کرنے کی اجازت دیں گے تو انہوں نے کہا کہ ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ فی الحال اس تجویز کے مخالف نہیں ہیں، لیکن وہ اپنا مؤقف تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔ عہدیدار کے مطابق، وائٹ ہاؤس کو قانون سازوں، اتحادیوں اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے تشویش کا سامنا ہے، جو انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سزائے موت کو براہِ راست نشر نہ کیا جائے۔

جے ڈی وینس نے بھی اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نشریات سے متعلق اختلافات کے باوجود لوگوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ندال حسن نے متعدد بے گناہ افراد کو بے دردی سے قتل کیا تھا۔

ریپبلکن ارکان بھی منصوبے کے مخالف

ریپبلکن پارٹی کے متعدد قانون سازوں نے سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی کو عوامی تماشے میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔

سینیٹر جان کرٹس نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جب کوئی معاشرہ سزائے موت کو تفریح کے طور پر دیکھنے کا شوق پیدا کرتا ہے تو اس کی اخلاقی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔

سینیٹر تھوم ٹلس اور ایوانِ نمائندگان کے رکن آسٹن اسکاٹ نے بھی اس منصوبے پر اعتراض کیا۔

رکنِ کانگریس روب بریسناہن نے کہا کہ حملے میں جانیں گنوانے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کی تکلیف کا احترام کیا جانا چاہیے، نہ کہ سزائے موت کو عوامی تماشا بنایا جائے۔ رکنِ کانگریس مائیکل بومگارٹنر نے بھی اس منصوبے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی اکثریت بھی اس تجویز کی مخالف ہے۔

امریکا میں آج تک کسی سرکاری سزائے موت کو ٹی وی یا انٹرنیٹ پر براہِ راست نشر نہیں کیا گیا، جبکہ امریکی فوج نے آخری بار 1945 میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی تھی لیکن کسی مجرم کی سزائے موت کو ٹیلی ویژن یا انٹرنیٹ پر براہِ راست نشر کرنے کی مثال موجود نہیں۔ اس لیے مجوزہ نشریات غیر معمولی نوعیت کی ہوں گی۔

مذہبی رہنماؤں نے انسانی وقار کا سوال اٹھا دیا

امریکی کیتھولک بشپوں کی کانفرنس کے سربراہ آرچ بشپ پال کوکلی نے مجوزہ نشریات کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایسی سوچ کا فروغ قرار دیا جو موت اور تشدد کو معمول بناتی ہے۔

نیشنل ایسوسی ایشن آف ایونجیلیکلز کے صدر والٹر کِم نے بھی سوشل میڈیا پر کہا کہ فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو براہِ راست دکھانے سے ریاست کی ایک انتہائی سنجیدہ ذمہ داری عوامی تماشے میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے۔ ان کے مطابق، اس سے انسانی وقار کے احترام کے بجائے موت کو معمول سمجھنے والی ثقافت کو فروغ مل سکتا ہے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ خود ایک قدامت پسند ایونجیلیکل مسیحی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے دورِ وزارت میں مذہبی عقیدے کو نمایاں کرتے رہے ہیں۔ وہ پینٹاگون میں دعائیہ اجتماعات کی قیادت بھی کرچکے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے ایران جنگ پر پوپ لیو کی تنقید کو بھی مسترد کیا تھا۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا اعتراض

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی عوامی سطح پر سزائے موت دکھانے کی مخالفت کی ہے۔

جنیوا میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی ترجمان شابیا مانٹو نے کہا کہ عوامی سزائے موت ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک اور سزا کے خلاف پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کے طریقے کو بھی قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔

امریکا کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے بھی اس منصوبے پر تنقید کی۔ وہ رواں سال اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ندال حسن کی سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر نقصان دہ ہوگا بلکہ دہشت گرد تنظیموں کو مفت پروپیگنڈا مواد بھی فراہم کرسکتا ہے، جسے وہ مزید افراد کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنے کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔

ذہنی صحت کے ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے مناظر بچوں کے لیے ذہنی صدمے کا باعث بن سکتے ہیں۔

لائیو اسٹریم کے قانونی اور انتظامی پہلو بھی زیرِ بحث

امریکی وفاقی جیلوں میں سزائے موت کی کارروائی ریکارڈ کرنے یا نشر کرنے پر قانونی پابندی موجود ہے، تاہم فوجی ضوابط میں یہی پابندی اسی انداز سے لاگو نہیں ہوتی۔ ماضی میں عدالتیں سزائے موت تک میڈیا کی وسیع تر رسائی کے لیے دائر مقدمات بھی مسترد کرچکی ہیں۔

امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن کے چیئرمین برینڈن کار نے سی این بی سی کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق یہ کارروائی عام نشریاتی ٹیلی ویژن پر نہیں دکھائی جائے گی۔ تاہم امریکی ٹی وی نیٹ ورکس اسے نشر کرسکیں گے یا نہیں، اس بارے میں انہوں نے فیصلہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ پر چھوڑ دیا۔

پینٹاگون نے جمعے کو یہ بتانے سے گریز کیا کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو سزائے موت کے موقع پر مدعو کیا جائے گا یا نہیں۔ امریکا میں عام شہریوں کو دی جانے والی سزائے موت کے معاملات میں اہلِ خانہ کی شرکت کا انتظام اکثر کیا جاتا ہے۔

یہ بھی واضح نہیں کہ امریکی فوج فائرنگ اسکواڈ کے ارکان کا انتخاب کیسے کرے گی اور سزائے موت کے دوران کن طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ان تفصیلات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

ندال حسن کی سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کی تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا میں سزائے موت کے طریقہ کار پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے ریاست ٹینیسی میں ایک خاتون کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش میں پیش آنے والی خرابی نے بھی اس بحث کو مزید تیز کردیا تھا۔ مذکورہ خاتون کو 1995 میں قتل کے ایک مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں، جن میں ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایسے میں ندال حسن کی سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کا معاملہ سیاسی، قانونی اور اخلاقی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

Related posts