شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کے ایک لاکھ سے زائد ارکان بھارت فرار، بنگلہ دیشی حکومتی مشیر کا دعویٰ

0 minutes, 0 seconds Read

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے اطلاعاتی مشیر محفوظ عالم نے دعویٰ کیا ہے کہ معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کے ایک لاکھ سے زائد ارکان بھارت فرار ہو چکے ہیں۔

بنگلہ دیشی نیوز پورٹل کے مطابق، محفوظ عالم نے یہ بات ڈھاکہ میں عید کے ایک اجتماع کے دوران کہی، جس میں ان افراد کے اہل خانہ شریک تھے جنہیں مبینہ طور پر حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں جبری گمشدگی یا قتل کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ اجتماع انسانی حقوق کی تنظیم ”مایر ڈاک“ کے زیرِ اہتمام شہر کے تیج گاؤں علاقے میں منعقد ہوا۔

اردوان کیخلاف مظاہرے کرنیوالے کون ہیں؟ برطانوی خبر رساں ادارے کی دلچسپ منطق

جبری گمشدگیاں اور انتخابی عمل کی تباہی

محفوظ عالم نے حسینہ واجد پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنے والدین کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے جبری گمشدگیوں اور قتل و غارت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

انہوں نے مزید کہا، ’سنہ 2013 اور 2014 میں جب لوگ اپنے ووٹ کے حق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، تب سب سے زیادہ جبری گمشدگیاں ہوئیں۔ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد انتخابی نظام کو تباہ کرنا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کر دیا ہے، جس کی سفارشات کی بنیاد پر متعدد افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔

’عوامی لیگ ایک مافیا گروہ بن چکی تھی‘

محفوظ عالم نے سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوامی لیگ کے مخالفین کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے کر غائب کر دیا گیا، جبکہ ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دی گئیں اور ریاستی اداروں کو جبری گمشدگیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حسینہ واجد بھارت میں پناہ لے کر اب بھی بنگلہ دیش کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں، جو افسوسناک ہے۔

محفوظ عالم نے کہا، ’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بھارت نے حسینہ اور ان کی دہشت گرد قوتوں کو پناہ دی ہے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق عوامی لیگ کے تقریباً ایک لاکھ ارکان نے وہاں پناہ لے رکھی ہے۔‘

حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ اور فرار

شیخ حسینہ کی 16 سالہ حکومت کا خاتمہ پانچ اگست کو ایک طلبہ تحریک کے نتیجے میں پرتشدد عوامی بغاوت کے ذریعے ہوا۔ اس کے بعد 77 سالہ حسینہ واجد خفیہ طور پر بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت چلی گئیں۔

ان پر قتلِ عام اور بدعنوانی سمیت 100 سے زائد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان کی حکومت کے بیشتر وزراء اور رہنما یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔

ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا گیا، اور عوامی لیگ بنگلہ دیش کی سیاسی فضا سے تقریباً غائب ہو چکی ہے۔

ٹرمپ کا فلسطینیوں کی بے دخلی کا منصوبہ، حماس رہنما کی دنیا بھر کے حامیوں کو ہتھیار اٹھانے کی کال

’انسانیت کے خلاف جرائم‘

محفوظ عالم، جو کہ ”اینٹی ڈسکریمنیشن اسٹوڈنٹ موومنٹ“ کے سرکردہ رہنما ہیں، جولائی میں ہونے والے انہی احتجاجی مظاہروں کا حصہ تھے، جنہوں نے حسینہ حکومت کے زوال میں اہم کردار ادا کیا۔

حسینہ واجد، ان کے متعدد سینئر وزراء اور قریبی سیاسی ساتھیوں پر بنگلہ دیش کے اندرونی ”انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل“ میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔

Similar Posts