بی جے پی کو نیا صدر ملنا مشکل ہوگیا، پارٹی قیادت پریشان

0 minutes, 0 seconds Read

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے نئے قومی صدر کا انتخاب ایک پیچیدہ معاملہ بن گیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، پارٹی کی قیادت کو ایک ایسے امیدوار کی تلاش ہے جو تنظیمی امور میں مہارت رکھتا ہو، انتہا پسند ہندو جماعت ”آر ایس ایس“ کے لیے بھی قابل قبول ہو، اور ملک بھر میں پارٹی کو مضبوط بنا سکے۔ تاہم، ابھی تک کوئی متفقہ نام سامنے نہیں آ سکا۔

بی جے پی کے پارلیمانی اجلاس کے 4 اپریل کو ختم ہونے کے بعد بی جے پی کی قیادت نئے صدر کے انتخاب کے عمل کو تیز کرے گی، اور توقع ہے کہ اپریل کے تیسرے ہفتے تک نیا سربراہ چن لیا جائے گا۔ لیکن داخلی معاملات، ذات پات کے توازن، اور شمالی و جنوبی بھارت کے درمیان اختلافات کے باعث فیصلہ کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

شیخ حسینہ کی عوامی کے ایک لاکھ سے زائد ارکان بھارت فرار، بنگلہ دیشی حکومتی مشیر کا دعویٰ

نیا صدر کون ہوگا؟ قیاس آرائیاں عروج پر

پارٹی میں نئے صدر کے لیے کئی نام زیر غور ہیں، لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ جے پی نڈا کی صدارت میں لوک سبھا انتخابات مکمل کرانے کے بعد اب پارٹی ان کے جانشین کی تلاش میں ہے۔ نڈا نے 2019 میں امت شاہ کی جگہ لی تھی اور ان کی مدتِ صدارت کو 2024 کے انتخابات کے پیش نظر بڑھایا گیا تھا۔

بھارت میں ایک اور طیارہ گر کر تباہ

بی جے پی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک ایسا صدر چنے جو تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کر سکے اور آئندہ انتخابات میں پارٹی کی پوزیشن بہتر بنا سکے، خاص طور پر اتر پردیش میں، جہاں لوک سبھا انتخابات میں ہونے والے نقصان نے بی جے پی کی اکثریت کو متاثر کیا۔ اس صورتحال کے باعث چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ نیا صدر اتر پردیش سے ہی ہو سکتا ہے۔

بھارت: پٹاخہ فیکٹری میں خوفناک دھماکہ، 18 افراد ہلاک

فیصلہ کب ہوگا؟

اب تک 13 ریاستوں میں تنظیمی انتخابات مکمل ہو چکے ہیں اور 19 ریاستوں کے صدور کے اعلان کے بعد قومی صدر کے انتخاب کا عمل آگے بڑھے گا۔ لیکن پارٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج صحیح امیدوار کا چناؤ ہے جو تمام دھڑوں کو قبول ہو۔

Similar Posts