لاہور میں دو دوستوں نے اپنے 18 سالہ نوجوان دوست کو نہر میں پھینک کر قتل کر دیا جبکہ پولیس نے 24 گھنٹے میں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان پولیس کے مطابق تھانہ شاد باغ کے علاقے میں ملزمان منیب اور زبیر اپنے سلیم نامی دوست کو گھر سے نہر میں نہانے کے لیے لے کر نکلے جہاں ان کا کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔
ملزمان نے تلخ کلامی پر سلیم کو گہرے پانی میں دھکا دے دیا اور وہ ڈوب کر جان کی بازی ہار گیا۔
مقتول کی والدہ نے بیٹے کے گھر واپس نا لوٹنے کے حوالے سے درخواست تھانہ شادباغ میں جمع کرائی۔ درخواست موصول ہوتے ہی پولیس نے فوراً مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کر دی اور 24 گھنٹے کے اندر ہی دونوں ملزمان گرفتار کر لیا۔
پنجاب میں قیدیوں کی سزا معافی اور بقیہ سزا کا ریکارڈ آن لائن کردیا گیا
پولیس کے مطابق ملزمان کی نشاندہی پر مقتول سلیم کی لاش نہر سے برآمد کی گئی۔ ملزمان میں مقتول کا دوست منیب اور امیر حمزہ شامل ہیں۔
دوران تفتیش ملزمان نے سلیم کو نہر میں پھینکنے کا اقرار کیا۔ ریسکیو ٹیم نے لاش کی تلاش کے لیے آپریشن کیا اور مقتول کی میت کو نہر سے نکالا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر کے مزید قانونی کاروائی کی جا رہی ہے۔
بارات سے چند گھنٹے قبل دلہن کے قتل کا معاملہ
لاہور میں بارات سے چند گھنٹے قبل دلہن کے قتل کے معاملے سے متعلق اہم خبر سامنے آئی ہے۔ مقتولہ کی والدہ جمیلہ بی بی کے بیان پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مگر تاحال پولیس ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔
یاد رہے مقتولہ کو اس کے بہنوئی اکرام نے قتل کیا، مہندی کی تقریب کے بعد نگینہ اپنے کمرے میں سو گئی، ملزم نے صبح ساڑھے پانچ اس کے سر میں گولی مار کر قتل کر کے فرار ہوگیا۔
پولیس نے ملزم کے دو بھائیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔