چین کی جانب سے ایک ایسا روبوٹ تیار کرلیا گیا جو انسانوں کی طرح دوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سائنسدانوں نے اِس روبوٹ کا نام ’تیانگ گانگ‘ رکھا ہے جس کے مزید تجربات جاری ہیں۔
بڑی سرمایہ کاری کی بدولت چین کی روبوٹکس انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ روبوٹ اب بہت سے شعبوں میں استعمال ہو رہے ہیں اور انسان کے کاموں کو آسان اور زیادہ موثر بنا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جدید تیانگ گانگ روبوٹ طویل ریسنگ مقابلے میں انسانوں کی طرح دوڑ سکے گا، اس روبوٹ کو دوڑنے کے مقابلوں میں پیش کیا جائے گا، اس مقابلے میں دنیا بھر کی روبوٹ کمپنیوں کے جدید روبوٹ دوڑیں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیجنگ میں 13 اپریل کو ایک خصوصی ریسنگ کا مقابلہ منعقد ہوگا جس میں روبوٹ اور انسان الگ الگ ٹریکس پر ایک ساتھ دوڑ سکیں گے۔
گھریلو کام کاج سنبھالنے والا دنیا کا پہلا ہیومنائیڈ روبوٹ تیار
دنیا کا کوئی بھی گروپ جو روبوٹ تخلیق کرتا ہے وہ اس مقابلے میں شرکت کرسکتا ہے، اب تک 23 کمپنیوں نے مقابلے کے لیے اندراج کرالیا ہے۔
نیا روبوٹ تیانگ گانگ الٹرا ایک بہتر ورژن پر بنایا گیا ہے۔ اس کی ٹانگیں لمبی ہیں۔ اس میں دوڑتے وقت اپنے پیروں اور ٹخنوں کی حفاظت کے لیے خصوصی ”جوتے“ بھی ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ تیانگ گانگ الٹرا روبوٹ 12 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔