امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک حالیہ امریکی تجارتی معاہدوں سے پیچھے ہٹیں گے یا کھیل کھیلیں گے، ان پر پہلے سے زیادہ محصول (ٹیکس) عائد کیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سپریم کورٹ کے ہنگامی محصولات سے متعلق فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ وہ اپنے قانونی اختیارات کے تحت نئے محصولات اور ممکنہ لائسنس فیس بھی عائد کر سکتے ہیں۔ جو ممالک امریکا کا نقصان کرتے آئے ہیں، انہیں حالیہ معاہدے سے کہیں زیادہ محصول کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے ہنگامی محصولات کو کالعدم قرار دیا، لیکن اس فیصلے نے ان کے لیے دیگر قانونی اختیارات کے تحت محصولات لگانے کی صلاحیت کو تسلیم کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ محصولات زیادہ طاقت ور اور قانونی طور پر مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے نئے لائسنس فیس کے نفاذ کی بھی تجویز دی، تاہم اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یاد رہے کہ برسلز میں یورپی پارلیمنٹ نے امریکی تجارتی معاہدے پر ووٹنگ مؤخر کر دی ہے، کیونکہ ٹرمپ نے تمام ممالک سے درآمدات پر عارضی 15 فیصد محصول عائد کیا۔ اس میں کچھ اشیاء جیسے خوراک، ہوائی جہاز کے پرزے، اہم معدنیات اور طبی اجزاء شامل ہیں۔ یورپی یونین نے بھی امریکی درآمدات پر محصول ہٹانے کا اعلان کیا۔
نئے محصولات منگل سے نافذ ہوں گے اور اسی وقت امریکی کسٹمز نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد غیر قانونی محصولات کی وصولی بند کرنے کا اعلان کیا۔
اس فیصلے کے بعد عالمی مارکیٹ میں عدم یقینی کے باعث اسٹاک مارکیٹیں گر گئی ہیں۔ ڈاؤ جونز میں 1.34 فی صد، ایس اینڈ پی 500 میں 0.65 فی صد اور ناسڈیک میں 0.65 فی صد کمی ہوئی جب کہ امریکی ڈالر کی قدر میں 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغامات میں سپریم کورٹ کے ججوں پر بھی تنقید کی، جن میں دو جج وہ بھی شامل تھے جنہیں انہوں نے پہلی مدت میں نامزد کیا تھا۔ انہوں نے آئندہ فیصلوں میں پیدائشی شہریت کی پابندی کے حوالے سے عدالت کے ممکنہ فیصلے پر بھی تشویش ظاہر کی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریرنے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کئی ممالک کے خلاف نئی تحقیقات شروع کرنے کی توقع رکھتی ہے، تاکہ مستقبل میں نئے محصولات کی دھمکی دی جا سکے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایمرجنسی ٹیرف اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جو انہوں نے قومی ایمرجنسی کے قانون کے تحت عائد کیے تھے۔
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدر کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر گذشتہ برس ٹیرف عائد کیا تھا۔