پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی حکم نامے کی توثیق کے لیے قرارداد قومی اسمبلی میں بحث کے لیے پیش کر دی ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بدھ کے روز علی زمان ایڈووکیٹ کی وساطت سے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا ہے۔

بیرسٹر گوہر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں گورنر راج کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے جب کہ عدالت سے درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ خراب حالات کو قرار دیا جارہا ہے تو پھر ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حالات خرابی کو ہی جواز بنایا گیا ہے تو بلوچستان میں گورنر راج اور کچے کے علاقوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کی جانی چاہیئے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے فیصلے کی توثیق کے لیے قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی جس پر باقاعدہ بحث جاری ہے۔ یہ قرارداد بدھ کے روز اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کی گئی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، اندرونی خلفشار اور سرحد پار سے جاری دراندازی کے تناظر میں یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا۔

وزیر قانون نے انکشاف کیا کہ وفاقی کابینہ نے ڈھائی گھنٹے کے طویل اجلاس میں حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم کو صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز دی، جس کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت یہ فیصلہ عمل میں لایا گیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران انہوں نے صوبے میں امن و امان کی تشویشناک صورت حال کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2021 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 2 ہزار 911 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد خطرناک حد تک بڑھ کر 3 ہزار 787 تک جا پہنچی۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اس سنگین لہر کے مقابلے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے تھا اور مسلح افواج، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیوں کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات اٹھانے چاہیے تھے، لیکن صوبائی حکومت سیکیورٹی صورت حال سے نمٹنے میں مکمل ناکام رہی۔

وزیر قانون نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کو یقینی بنانے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں، دیگر شہروں کے دوروں اور اسلام آباد پر چڑھائی جیسے بیانات کو ترجیح دی گئی۔

Related posts