امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو براہ راست مذاکرات کی پیش کش کردی

0 minutes, 0 seconds Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دھمکیوں کے باوجود تہران شاید واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہو جائے۔

جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے ساتھ آمنے سامنے سفارت کاری کے امکانات کے بارے میں پُرامیدی ظاہر کی۔

ان کا کہنا تھا، ’میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم براہ راست بات کریں تو بہتر ہوگا۔ اس طرح بات چیت تیز ہوتی ہے اور دوسرے فریق کو بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ ثالثوں کا استعمال چاہتے تھے، لیکن میرا نہیں خیال کہ اب ایسا ہے۔‘

اسرائیلی کا لبنان پر حملہ: حماس رہنما حسن فرحات بچوں سمیت شہید

گزشتہ ماہ ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کی دعوت دی گئی تھی۔ تاہم وہ ایران کو بارہا فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں۔

ایران نے براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، البتہ تہران نے بالواسطہ سفارت کاری کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس وقت یہ واضح نہیں کہ ایران نے واقعی اپنی پالیسی بدلی ہے یا ٹرمپ صرف قیاس آرائی کر رہے ہیں۔

امریکی حکومت ایران پر سخت پابندیاں عائد کرتی آ رہی ہے، جن کا مقصد اس کی تیل کی برآمدات، خاص طور پر چین کو، مکمل طور پر روکنا ہے۔

یاد رہے کہ 2018 میں اپنی پہلی صدارت کے دوران ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والا کثیرالملکی جوہری معاہدہ ختم کر دیا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنا جوہری پروگرام محدود کیا تھا اور بدلے میں اس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ہٹائی گئی تھیں۔

ایران مسلسل کہتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا، جبکہ اسرائیل، جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے، کے پاس خفیہ جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ہونے کا خیال کیا جاتا ہے۔

جنوری میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ٹرمپ نے عالمی تنازعات میں ”امن“ لانے کا وعدہ کیا ہے، لیکن ایران کے حوالے سے وہ کبھی سفارتی اشارے دیتے ہیں تو کبھی سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے کہا، ”اگر انہوں نے معاہدہ نہ کیا تو بمباری ہوگی۔“

ایرانی حکام بھی جوابی دھمکیاں دیتے رہے ہیں کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج اور مفادات کو نشانہ بنائیں گے۔

چین کو ٹیرف میں ریلیف مل سکتا ہے، امریکی صدر

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گزشتہ ماہ کہا تھا، ’امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کے ساتھ دھمکیاں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ اگر ایرانی قوم کے خلاف کسی بھی قسم کی شرارت کی گئی تو اس کا شدید جواب دیا جائے گا۔‘

تاہم غزہ کی جنگ اور دیگر علاقائی تنازعات کے باعث ایران کی پوزیشن کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اسرائیل نے حال ہی میں لبنان میں حزب اللہ کے سینیئر سیاسی اور عسکری رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے، جو ایران کا مضبوط اتحادی تصور کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ شام میں صدر بشار الاسد کے زوال کے بعد ایران ایک اور اہم اتحادی سے محروم ہو چکا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کی موجودہ حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’مجھے لگتا ہے کہ وہ فکرمند ہیں، وہ خود کو غیرمحفوظ سمجھتے ہیں، اور میں نہیں چاہتا کہ وہ ایسا محسوس کریں۔‘

Similar Posts