ایک یمنی شخص کی اپنے بچے کے سامنے بھوک سے مرنے کی دردناک ویڈیو نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
ویڈیو بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جسے دیکھ کو سوشل میڈیا صارفین غم کا اظہار کر رہے ہیں۔
بعض صارفین اس ویڈیو پر عرب دنیا کے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے کا کہتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ویڈیو میں دکھایا گیا کہ بھوک سے نڈھال ایک یمنی شہری اپنی آخری سانس لے کر چل بسا جبکہ بچے کو معلوم نہیں تھا کہ اس کا باپ ایک دردناک منظر میں موت کے منہ میں چلا گیا ہے۔
یہ دردناک واقعہ ایک ایسے ایسے شہر میں پیش آیا ہے جہاں سے حوثی گروپ سالانہ اربوں ریال کماتا ہے۔
بھارت میں 150 سال پرانا کنواں 8 افراد کی جان لے گیا
یمنی کارکنوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یاسر احمد البکار نامی شہری کی تصاویر پھیلا دی گئیں۔ البکار کی روح اس وقت پرواز کر گئی جب وہ شہر ’’اب‘‘ کے شمال مغرب میں واقع المعا ین کے علاقے میں فٹ پاتھ پر تھا۔ اس کے سامنے روٹی کا ایک ٹکڑا تھا اور اس کے ساتھ اس کا کمسن بچہ عمار بھی موجود تھا۔ٓ
ویڈیو میں دکھائے جانے دردناک مناظر بھوک، غربت اور درد کی کیفیت کو ظاہر کر رہے تھے۔
یمنی میڈیا ذرائع کے مطابق البکار چار بچوں کا باپ تھا اور وہ ہزاروں شہریوں کی طرح مشکل مالی حالات میں زندگی گزار رہا تھا۔ یہ سب شہری سخت دنوں میں بھاری مصائب کا شکار ہیں۔
عینی شاہدین نے اطلاع دی کہ ”البکار“ اچانک بغیر کسی وارننگ کے انتقال کرگیا۔ وہ اپنے ننھے سے بچے کو انتہائی صدمے کی حالت میں چھوڑ کر چل بسا۔