گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے 23 جنوری سے لے کر اب تک نذر عباس کے ڈرائیور کے گرفتار نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ متاثرہ خاندان کے دکھ میں وہ برابر کے شریک ہیں۔ نذر عباس، جو ماہانہ 30 ہزار روپے کما رہا تھا، اس کے حوالے سے گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ آج تک کسی نے اس خاندان سے رابطہ نہیں کیا۔
گورنر سندھ نے اس موقع پر نذر عباس کی تینوں بچیوں کے تعلیمی اخراجات اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بچیاں 12 سال تک انگلش میڈیم میں تعلیم حاصل کریں گی۔ اس کے علاوہ، متاثرہ خاندان کو 80 گز کا پلاٹ بھی دیا جائے گا۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ وہ شہر میں نفرت کی سیاست نہیں کریں گے اور کلاشنکوف کے بجائے قلم دینے کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عوام کو جھوٹے وعدوں سے بہکانے کے بجائے حقیقی مدد فراہم کریں گے اور 12 اپریل کو متاثرین کو گورنر ہاؤس بلوالیں گے، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
گورنر سندھ نے سیاسی جماعتوں اور مافیا کے سرغنوں کی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ نعرے بازی نہیں کریں گے اور لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے نہیں لگائیں گے۔