ہماری پسماندگی کا غلط استعمال، غربت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمان

0 minutes, 0 seconds Read

سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہماری پسماندگی کاغلط استعمال اور غربت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔

تونسہ شریف میں استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے بعد یہاں میں اجتماع سے مخاطب ہوں، ہم بھی کوہ سلیمان کے دامن سے ہیں، ہم سب کے مسائل ایک جیسے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری غربت کو جاگیر دار استعمال کر رہا ہے، اس خطے میں وہ آواز موجود ہے جس کو جے یوآئی کی آواز کہا جاتا ہے، غلامی سے بغاوت ہماری پہچان ہے، دوسرے ممالک سے آزادی کی بھیک نہیں مانگی جاسکتی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر ہم اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے، جے یو آئی واحد قوت نے جو اس آئینی ترمیم کی راہ میں رکاوٹ بنی اور حکومت کو 56 نکات سے 34 نکات پر محدود کیا، اب اگر اس ترمیم کو نقصان پہنچتا ہے تو یکم جنوری 2028 کو سود کے خاتمے کی شق کو بھی نقصان ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا کے مختلف مسلم ممالک آگ میں جل رہے ہیں، اور دہشتگرد بھی انہی کو کہا جاتا ہے، مسلمان فساد کی جڑ نہیں بلکہ دنیا میں آگ لگانے والے فسادی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین میں 60 ہزار شہری شہید کردیئے گئے، اسرائیلی وزیراعظم ایک جنگی مجرم ہے، امریکا اور یورپ برابر کے مجرم ہیں۔

سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ ہماری پسماندگی کاغلط استعمال ہو رہا ہے، ہماری غربت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے، حکمران غربت کو کمزوری سمجھتے ہوئےغلط استعمال کر رہے ہیں، مظالم کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، اسلامی ممالک میں آگ بھڑک رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم مغرب کی تہذیب کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہمیں امریکا اورمغرب کی غلامی کرنے کہا جاتا ہے، ہم تہذیب، روایات مغرب، یورپ اور امریکا سے مانگتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فساد کی جڑ تم ہو، ہم نہیں ہیں، افغانستان، شام اور عرب دنیا میں آگ جل رہی ہے اور اس میں جل بھی میں رہا ہوں، انسانیت کیلئے خطرہ بھی میں ہوں، ایسا نہیں ہو سکتا، فلسطین میں اسرائیلی جبر سے60 ہزار مسلمان بمباری میں شہید ہوئے، غزہ میں بزرگ ،خواتین اور بچے شہید ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

Similar Posts