اقرار الحسن کی بریت کی درخواست مسترد، ریمانڈ میں دو روزہ توسیع

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ہاتھوں گرفتار معروف اینکر پرسن اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کی بریت کی درخواست مسترد کردی گئی ہے اور ان کے جسمانی ریمانڈ میں دو روز کی توسیع بھی کردی گئی ہے۔

اقرار الحسن کو ہفتے کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع کر دی۔

اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ شرقی کراچی نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر کردہ کرمنل رویژن اور مقدمے سے ڈسچارج کرنے سے متعلق دفاعی وکلاء کی استدعا کو مسترد کر دیا تھا۔

اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کی رات تقریباً تین بجے لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے این سی سی آئی اے کی ٹیم نے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی مدد سے حراست میں لیا تھا۔

ان کے خلاف پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت مقدمہ نمبر 101/2026 درج ہے۔

گرفتاری کے بعد انہیں کراچی منتقل کیا گیا جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے ابتدائی طور پر ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

سیشن جج ارشد مرتضیٰ کی عدالت میں ہونے والی گزشتہ سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکلاء میاں علی اشفاق اور شاہد حسین کریجو نے حراست کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ لاہور سے گرفتاری کے لیے قانونی طریقہ کار اور راہداری ریمانڈ کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

وکلاء کا کہنا تھا کہ اقرار الحسن نے محض سیاسی صورت حال اور ممکنہ گورنر راج پر اپنی رائے دی تھی جو آئین کے تحت شہریوں کا بنیادی حق ہے۔

عکلاء نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملزم کے موبائل اور دیگر پانچ ڈیوائسز (چار موبائل فونز اور ایک آئی پیڈ) پہلے ہی این سی سی آئی اے کی تحویل میں ہیں، اس لیے مزید تحویل کی ضرورت نہیں۔

سماعت کے دوران اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے بھی روسٹرم پر آ کر حراست کے وقت کی تفصیلی معلومات فراہم کی تھیں۔

دوسری جانب این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر انسپکٹر رانا محمد فیصل خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ برآمد شدہ الیکٹرانک ڈیوائسز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔

عدالت نے گزشتہ سماعت کے تحریری حکم نامے میں قرار دیا تھا کہ آزادیِ اظہارِ رائے کا حق قانون کے تحت عائد معقول پابندیوں کے تابع ہے اور ابتدائی ریمانڈ کا حکم قانون کے مطابق تھا۔

Related posts