اقوام متحدہ کے اداروں کے ماہرین کا پاکستان سے افغان باشندوں کی بے دخلی ترک کرنے کا مطالبہ

0 minutes, 0 seconds Read

اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ مُلک کے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی سے افغان پناہ گزین کو زبردستی بے دخل کرنے کا اپنا منصوبہ ترک کر دے اور انھیں افغانستان واپس جانے پر مجبور نہ کرے۔

اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے ماہرین کے گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر افغانستان کا سفر کرنے والے افغان باشندوں کی نقل مکانی، بے دخلی، حراست اور دیگر سخت اقدامات کے گُریز کرے۔‘

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان سے افغان پناہ گزین کی روانگی کے لیے 31 مارچ کی آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم بیان کے مطابق اس میں 10 اپریل تک توسیع کی جا سکتی ہے۔‘

افغان مہاجرین کی واپسی کا دوسرا مرحلہ، اب تک کتنے خود سے واپس جا چکے؟

بیان میں کہا گیا ہے ’سب سے زیادہ نقصان افغان خواتین، لڑکیوں، ایل جی بی ٹی لوگوں، نسلی اور مذہبی اقلیتوں، سابق حکومتی اور سکیورٹی اہلکاروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور میڈیا ورکرز کو پہنچے گا۔‘

اقوام متحدہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب پاکستان کے مختلف حصوں سے افغان پناہ گزین کو گرفتار کر کے تھانوں میں منتقل کر کے واپس افغانستان بھیجے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں ہیں۔

پاکستان میں افغان مہاجرین کی ازخود واپسی کی ڈیڈلائن ختم، ملک بدری کا عمل شروع

پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 21 لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزین مقیم ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا سے 8,953، صوبہ پنجاب سے 1,309، دارالحکومت اسلام آباد سے 1,561، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے 38 اور صوبہ سندھ سے 44 افغان پناہ گزین کو ملک بدر کیا جا چُکا ہے۔

Similar Posts