کشور زہرا نئے صوبوں کے قیام اور نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کے مسودے گزشتہ 15 برسوں میں قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں جمع کرا چکی ہیں ۔ کشور زہرا اس وقت قومی اسمبلی کی رکن نہیں ہیں مگر ان کی کوشش ہے کہ ان کی تجاویز پارلیمنٹ منظور کرلے۔
اس ملک کی عجب تاریخ ہے کہ جمہوری حکومتوں نے ہمیشہ نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کو نظرانداز کیا مگر غیر سول حکومتوں نے پارلیمنٹ کی اہمیت کو تو محسوس نہیں کیا ،البتہ کمزور بلدیاتی نظام نافذ کیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر ہندوستان پر قبضہ کیا تو استعماریت کی بنیاد پر قائم نظام کے استحکام کے لیے ہزاروں لاکھوں ہندوستانیوں کو پھانسیاں دی گئیں۔
ہزاروں خاندانوں کی جائیدادیں چھین لی گئیں مگر پھر انتظامیہ اور عدلیہ کا جدید نظام نافذ ہوگیا۔ انگریزی تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا۔ کمپنی کی حکومت نے ریل کا نظام قائم کیا اور بجلی بھی اسی دور میں آئی۔ اس کے ساتھ ہی انگریز حکومت نے ہندوستان میں پہلی دفعہ بلدیاتی ڈھانچہ بھی بنایا۔ انگریز سرکار نے بڑے شہروں میں میونسپل بورڈ قائم کیے اور گاؤں کی سطح اور پنچایت کو نئی شکل دے کر کمپنی کی حکومت نے ان اداروں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے چوکیداری ایکٹ 1956 کا نفاذ عمل میں آیا۔ چوکیداری ایکٹ کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو پنچائیت کے اراکین کے تقرر کا اختیار دیا گیا۔
ہندوستان میں پہلی میونسپل کارپوریشن ممبئی میں اور دوسری کلکتہ میں قائم ہوئی۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد بھارت میں 1950میں نیا آئین نافذ ہوا، بھارت یونین بن گیا۔ بھارت میں تین سطح پر مشمل ایک خودمختار بلدیاتی نظام نافذ کیا گیا۔ اس نظام کے تحت شہروں میں خودمختار میونسپل کارپوریشن اور دیہی علاقوں کے لیے پنچایتی راج ادارہ قائم ہوا۔ اس وقت بھارت کے شہروں میں 4ہزار 814 بلدیاتی ادارے قائم ہیں۔ بھارت میں غربت کے خاتمہ ، خواتین کو بااختیار کرنے اور عوام کے جاننے کے حق کو تسلیم کرانے میں بلدیاتی اداروں نے اہم کردار ادا کیا۔
بھارت کی موجودہ حکومت نے گزشتہ سال یہ فیصلہ کیا کہ پورے ملک سے کنٹونمنٹ ایریا ختم کیے جائیں۔ صرف فوجی تنصیبات مسلح افواج کے کنٹرول میں رہیں اور تمام شہروں میں منتخب بلدیاتی اداروں پر مشتمل کارپوریشن کا نظام نافذ ہو۔ اس وقت بڑے شہروں کی میونسپل کارپوریشن ہنگامی صورتحال میں Disaster Management کے فرائض بھی انجام دیتی ہیں۔ پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور اقتدار میں بنیادی جمہوریت کا نظام قائم ہوا۔ دونوں صوبوں سے 80 ہزار بی ڈی ممبر منتخب ہوئے مگر ایوب خان نے بی ڈی ممبرز کو صدر، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا ادارہ بھی بنا دیا۔
بہرحال بی ڈی ممبرز اور میونسپل کمیٹی کو اپنے حلقہ میں صفائی اور صاف پانی کی فراہمی جیسے کاموں کی نگرانی کے اختیارات حاصل ہوئے۔ اس نظام کے تحت قائم میونسپل کمیٹی کو پیدائش، اموات، نکاح، طلاق کے رجسٹرڈ کرنے اور عائلی قوانین کے تحت طلاق کے مراحل کی نگرانی کا اختیار بھی مل گیا تھا، البتہ مجموعی طور پر یہ بلدیاتی ادارہ بے اختیار ادارہ تھا۔ 1973 کے آئین میں آرٹیکل 140-A کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی اداروں کے قیام کا پابند کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے آئین کے اس آرٹیکل پر عملدرآمد کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق ملک میں عام انتخابات نہیں کرائے مگر ایک کمزور بلدیاتی نظام قائم کیا۔ جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی شہر کے پہلے میئر منتخب ہوئے۔ اس نظام میں سیکریٹری بلدیات اور اس کی نامزد کردہ بیوروکریسی کی مکمل بالادستی تھی، کراچی کے میئر کے اختیارات انتہائی محدود تھے۔
جب عبدالستار افغانی نے آکٹرائیڈ ٹیکس کے ایم سی کے حوالے کرنے کے لیے احتجاج کیا تو اس وقت کے مسلم لیگی وزیر اعلیٰ غوث علی شاہ نے بلدیہ کو نواز دیا۔ اسی نظام کے تحت ایم کیو ایم کے فاروق ستار کراچی کے میئر بنے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے حکومت سنبھالتے ہی جنرل تنویر نقوی کی نگرانی میں National Reconstruction Bureau قائم کیا۔ اس بیورو کی تجاویز کے تحت ملک میں پہلی دفعہ نچلی سطح تک اختیارات کا بلدیاتی نظام قائم ہوا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا تحفہ ڈپٹی کمشنر کا ادارہ ختم کردیا گیا، یہ ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔
اس نظام کی پالیسی یہ تھی کہ بڑے شہروں میں قائم سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا صوبے کے بجائے اسلام آباد سے تعلق قائم ہوا تھا۔ اس نظام کے تحت ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ کراچی، حیدرآباد اور لاہور میں خاصی ترقی ہوئی مگر دیگر شہروں میں ترقی کا وہ معیار نہ تھا جو ان بڑے شہروں کا تھا۔ اس نظام کے تحت پہلے جماعت اسلامی کے نعمت اﷲ خان اور پھر ایم کیو ایم کے مصطفی کمال کراچی کے میئر منتخب ہوئے۔
اگرچہ اس دور میں کراچی شہر کی ہیئت تبدیل ہوئی مگر ترقی متوسط طبقہ کے علاقوں تک محدود رہی۔ غریب علاقوں میں ترقی کے ثمرات نہیں پہنچ سکے۔ کراچی شہر میں اوور ہیڈ برج اور انڈر پاس تو بن گئے مگر زیر زمین ٹرین، الیکٹرک ٹرام، ایلیویٹڈ ریل اور بڑی بسوں کے نظام پر توجہ نہ دی جاسکی، بہرحال ہر نظام میں خامیاں ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ دور ہوجاتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ نظام پسند نہ آیا۔ وزیر اعلیٰ ہی پر گٹروں کی صفائی، پانی کی فراہمی اور کوڑے کے ڈھیر اٹھانے کی ذمے داری عائد کی جاتی رہی۔
یوں کراچی کے کوڑے اور کتوں کے کاٹنے کا معاملہ عالمی مسئلہ بن گیا۔ دنیا کے بڑے اخبار نیویارک ٹائمز میں کراچی کے اس مسئلے پر فیچر شایع ہوئے۔ سپریم کورٹ نے سندھ میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے انعقاد میں خصوصی دلچسپی لی مگر باقی صوبوں کے بارے میں سپریم کورٹ نے توجہ نہ دی۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی بناء پر سندھ میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہوئے۔ اب تو سندھ کے دونوں بڑے شہروں میں پیپلز پارٹی کے میئر ہیں، مگر بیشتر اختیارات کا منبع وزیر بلدیات اور وزیر اعلیٰ ہیں۔ بلدیہ کراچی، کونسلر، یونین کونسل اور ٹاؤن کے وسائل اور اختیارات محدود ہیں ۔
کراچی میں صرف 33 فیصد علاقہ بلدیہ کراچی کی تحویل میں ہے۔ سندھ حکومت نے صوبہ میں فنانس کمیشن کے قیام کے بارے میں نہیں سوچا۔ ایم کیو ایم نے مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی سے اپنی اراکین کی حمایت کے لیے جو معاہدے کیے تھے، ان میں آئین کے آرٹیکل 140-A میں ترمیم کا معاملہ بھی شامل تھا۔ اگرچہ موجودہ حکومت اور اتحادی آئین میں 26ویں اور 27ویں ترامیم کرچکے ہیں اور اب وزیر اعظم نے شاید یہ وعدہ کیا ہے کہ 28ویں ترمیم میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات کا معاملہ شامل ہوگا مگر وزیر اعظم شہباز شریف نے 27ویں ترمیم کی پارلیمنٹ سے منظوری پر جو اختتامی تقریر کی تھی۔
اس تقریر میں این ایف سی ایوارڈ کا تو ذکر تھا مگر بلدیاتی ترمیم کا ذکر نہیں تھا۔ ذرایع ابلاغ میں شایع ہونے والی خبروں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی اس ترمیم کی مخالف ہے۔ بلاول بھٹو کا یہ بیانیہ ہے کہ سندھ میں تو منتخب بلدیاتی اداروں کا نظام موجود ہے مگر وہ اس حقیقت کو محسوس نہیں کرتے کہ دیگر صوبوں میں منتخب بلدیاتی نظام قائم نہیں ہوا۔ اگرچہ مسلم لیگ ن بظاہر ایم کیو ایم کی تجویز کی حمایت کررہی ہے مگر پنجاب میں نافذ ہونے والا بلدیاتی قانون تو مکمل طور پر بیوروکریسی کے تابع ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کو سوچنا ہے کہ دیگر صوبوں میں منتخب بلدیاتی اداروں کے قیام کے لیے آئین میں ترمیم ضروری ہے۔ ایم کیو ایم سمیت کئی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام کا پرچار کررہی ہیں، اگر نچلی سطح کا بلدیاتی نظام قائم ہوجائے تو نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ ہوا میں تحلیل ہوجائے گا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ اگر ایم کیو ایم کا یہ مطالبہ نہیں مانا گیا تو وہ عوام کی حمایت سے محروم تو ہوگی مگر یہ خلاء مختلف مذہبی گروہ پورا کریں گے جوکہ ایک خطرناک بات ہوگی۔
کراچی کے میئر اور ایم کیو ایم کے درمیان گرین لائن توسیع منصوبہ پر بالآخر اتفاق رائے سے ایک بار پھر امید پیدا ہوئی ہے کہ شہروں کی ترقی کے جدید نچلی سطح کے بااختیار نظام پر دونوں جماعتیں متفق ہوجائیں گی۔