پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کر دیا

0 minutes, 0 seconds Read
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔

سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کے بحران پر بحرین اور روس کی جانب سے پیش کی جانے والی قراردادوں کی پاکستان کی حمایت پر ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملوں نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

پاکستان برادر ملک ایران کی سلامتی اور خودمختاری کی حمایت کرتا ہے اور کسی بھی ملک پر غیر ضروری حملے پورے خطے کو ایک بڑے تنازع کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی کے باعث شدید انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں میں دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جبکہ خلیجی ممالک میں مقیم کئی لاکھ پاکستانی شہری اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی آپریشنز میں خلل پڑنے سے ایوی ایشن سیکٹر بھی متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ میزائل اور ڈرون حملوں سے شہری آبادی اور املاک کو نقصان پہنچ رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر سے ہٹ کر طاقت کا استعمال غیر قانونی ہے اور تمام فریقین پر بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتکاری میں ہے۔ اعتماد کی بحالی کے لیے تمام فریقین کو نیک نیتی کے ساتھ اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی ایک ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خطے کے دیگر ممالک کو اپنی شرائط پر چلانے کی کوشش کرے۔

فلسطینی علاقوں اور عرب خطے میں جاری کشیدگی بھی پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔

عاصم افتخار نے تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں کرنے والے ممالک کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت اپنے پڑوسیوں، دوست ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور پاکستان کشیدگی کم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فریقین کو فوری طور پر کشیدگی کم کرنے، مزید حملوں سے گریز کرنے اور سفارتکاری کو موقع دینے پر آمادہ کیا جائے تاکہ خطے میں امن بحال ہو سکے۔

Similar Posts