حکومت کہتی ہے کم از کم تنخواہ 40 ہزار روپے ہے لیکن کسی کو تو 20 ہزار روپے ماہانہ کسی کو 25 ہزار روپے ماہانہ اور اگر کم پڑھے لکھے ملازموں کی بات کریں جو کسی دکان پر صبح 7 بجے سے رات 11 بجے تک کام کر رہا ہو، کسی کی تنخواہ 12 ہزار ، کسی کی 15 ہزار روپے۔
نئے لیبر فورس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 80 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔ بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فی صد ہو گئی ہے، لیکن آزاد ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ یہ تعداد ایک کروڑ سے بھی زائد ہے۔ ان میں وہ مایوس نوجوان بھی ہیں جن کے پاس اعلیٰ ڈگری ہونے کے باوجود کم سے کم تنخواہ پر نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ ڈگری جو کبھی جشن مناتی تھی، جو ماں باپ کا فخر تھا۔ آج سوال کرتی ہے کہ کیا میں سرمایہ تھی یا فقط کاغذ کا پھول۔
ان بے روزگاروں کی مجموعی تعداد میں وہ مستور بے روزگار شامل نہیں ہیں۔ جب ایک کھیت میں پہلے ہی دو افراد کام کر رہے ہوں، اگر ان میں مزید دو بے روزگاروں کو روزگار فراہم کر دیا جائے تو 4 مزدور ہونے کے باوجود کھیت کی پیداوار اتنی ہی ملے گی، پالے گئے گائے بھینسوں سے جتنا دودھ ملتا تھا اتنا ہی ملے گا۔ دو آدمیوں کی محنت سے کھیت کو جو پیداوار حاصل ہو رہی تھی وہی ملے گا اور گائے بھینس کے باڑے سے بھی اتنا ہی ملے گا۔ لہٰذا ان دو افراد کو مستور بے روزگار کہا جائے گا، اگر ان بے روزگاروں کو بھی شامل کر لیا جائے تو تعداد سوا کروڑ تک جا پہنچتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے تک جب کہ عملی میدان میں وہ بھی بے روزگار ہے جو مکینک کا کام سیکھا ہے۔ تو دیہاڑی 50 روپے کما لیتا ہے، کوئی نوجوان دوپہر کے کھانے اور شام کی چائے پر اپنا گزارا کر رہا ہے، کوئی کریانہ اسٹور پر کام کرتا ہے اور 12 ہزار روپے تنخواہ پاتا ہے۔ کہا گیا کہ لیبر فورس 7 کروڑ 72 لاکھ افراد سے بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔پاکستان میں بے روزگاری، محنت کی تقسیم کی نہیں بلکہ مواقع کی تقسیم کی ناکامی ہے۔
کھیت میں اوزار کم ہیں اور کسان زیادہ ہیں۔ شہر میں ڈگریاں بہت زیادہ ہیں اور نوکریاں بہت ہی کم ہیں۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں مزدور ہاتھوں کا ہونا طاقت نہیں بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اس ملک میں پڑھا لکھا نوجوان کم تنخواہ میں جکڑا جا رہا ہے۔ نوحہ یہ نہیں ہے کہ کام کم ہے جب کہ اصل نوحہ یہ ہے کہ نوجوانوں کی قابلیت زیادہ ہے اور تنخواہ کم ہے۔ شکست صرف معاشی نہیں ہوتی یہ انسانی سرمائے کے پھول کا مرجھا جانا بھی ہے۔
کب تک لوگ اپنے خواب زمین پر بچھائیں گے اور بدلے میں چند روپے کی فصل مزدوری میں پائیں گے۔ کیا تعلیم مزدوری کے نرخ سے کم پر بیٹھی رہے گی۔ پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق زراعت اور ماہی گیری جیسے روایتی شعبوں میں روزگار کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔ ادھر تعلیمی شعبے میں سالانہ لاکھوں نوجوان یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہو جاتے ہیں مگر ملازمت اور مہارت کا خلا اتنا وسیع ہے کہ تعلیم کے باوجود تعلیم یافتہ بے روزگاری عام ہو رہی ہے۔
شہروں کی بات ایک طرف دیہاتوں اور قصبوں کے نوجوان بڑے شہروں میں کئی برس لگا کر وہاں ہوسٹل میں رہ کر، کم کھانا کھا کر کئی برس، کوئی 4 سال کوئی پانچ سال یا چھ سال لگا کر اپنے گاؤں لوٹتے ہیں اور پھر CV روانہ کرنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ پھر تھک ہار کر بوڑھے والد سے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے کھیت میں اس کے بھائیوں کے برابر لا کر کھڑا کر دیتا ہے اور وہ مستور بے روزگاری کے زمرے میں چلا جاتا ہے۔
پڑھے لکھے نوجوان کے پاس جب نوکری نہ ہو تو نتیجہ یا تو پھر وہ مایوس نوجوان اپنے لیے اپنے گھر والوں کے لیے بوجھ بن جاتا ہے یا پھر وہ زراعت جیسے شعبوں کا رخ کر لیتے ہیں۔پاکستان میں مزدور طبقے کی بڑی اکثریت غیر رسمی شعبے میں کام کرتی ہے جہاں نہ سوشل سیکیورٹی ہے نہ مستقل نوکری ہے، نہ تحفظ ہے نہ سالانہ چھٹی ہے نہ ماہانہ کوئی چھٹی ہے۔ کہیں تو ہفتے میں بھی چھٹی نہیں ہے اور چھٹی کا کوئی وقت بھی مقرر نہیں۔
بعض دفتروں میں کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ آنے کا وقت تو مقرر ہے لیکن جانے کا کوئی وقت نہیں ہے۔ شام کے ساتھ بج جائیں یا رات کے 9 یا 10 بج جائیں۔ لیکن پھر بھی لوگ مجبور ہیں نوکری کرنے پر۔ کیونکہ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے لیکن روزگار کے وسیع تر مواقع پیدا نہیں ہو رہے ہیں۔