اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور عوام فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ غیر متزلزل عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دہائیوں سے فلسطینی عوام اپنے حقِ خودارادیت سے محرومی، سرزمین پر قبضے اور امن کی تباہی جیسے سانحات کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ برسوں میں غزہ میں 70 ہزار سے زائد افراد، جن میں بچے، خواتین اور مرد شامل ہیں، شہید ہوئے۔ پوری کی پوری آبادیاں تباہ کر دی گئیں، خاندان مٹ گئے جب کہ گھر، اسپتال، اسکول اور بنیادی شہری ڈھانچے ملبے میں بدل دیے گئے ہیں۔ اس شدید اذیت کے باوجود فلسطینی عوام نے غیر معمولی حوصلہ اور ثابت قدمی دکھائی۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی جنگی جرائم اور نسل کشی جیسے اقدامات کی بین الاقوامی قانون کے مطابق مکمل اور قابلِ اعتماد جوابدہی ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دو ریاستی حل کے حوالے سے ہونے والی اعلیٰ سطحی کانفرنس اور غزہ امن منصوبے کو ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہوگا۔ اسرائیل کو تمام خلاف ورزیاں روکنی ہوں گی اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔
انہوں نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی انروا کے کام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام مستقل امن و خوشحالی کے مستحق ہیں، جس کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیلی فوج مکمل طور پر فلسطینی سرزمین، بشمول غزہ، سے دستبردار ہو۔ ساتھ ہی وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ دنیا کو مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور غیرقانونی یہودی آبادیوں کے توسیعی سلسلے سے توجہ نہیں ہٹانی چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان فلسطینی مسئلے کے منصفانہ، دیرپا اور جامع حل کے لیے پرعزم ہے، جو سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہو۔ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد، قابلِ عمل اور مسلسل ریاستِ فلسطین جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج اور ہمیشہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی آزادی، عزت اور امن کے جائز مقصد کی حمایت جاری رکھے گا۔