عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شیخ حسینہ واجد کے دور میں زیادہ تر عرصہ قید میں گزارنے والی 80 سالہ خالدہ ضیا کو گزشتہ برس کے آخر میں رہائی نصیب ہوئی تھی۔
انھیں جیل سے رہائی اُس وقت ملی تھی جب شیخ حسینہ واجد طلبا تحریک کے نتیجے میں اقتدار چھوڑ کر بھارت فرار ہونے پر مجبور ہوگئی تھیں۔
خالدہ ضیا جیل میں ہی علیل ہوگئی تھیں اور رہائی کے بعد بھی کچھ عرصہ اسپتال میں بھی گزارا تھا اور تب سے وہ گھر پر آرام ہی کر رہی تھیں۔
تاہم اب انھیں پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث سانس لینے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اسی وجہ سے آئی سی یو میں داخل کیا گیا ہے۔
بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق خالدہ ضیاء کی حالت بہت نازک ہے۔
خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے طارق رحمان 2008 سے لندن میں مقیم ہیں، انھوں نے سوشل میڈیا پر عوام سے والدہ کی صحت کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔
طارق رحمان نے مزید کہا کہ وہ عوام کی محبت اور دعاوں کے لیے شکرگزار ہیں تاہم بنگلا دیش واپس آنا ان حالات میں ممکن نہیں۔
یاد رہے کہ خالدہ ضیاء تین بار وزیرِ اعظم رہ چکی ہیں اور 2018 سے شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران کرپشن کے الزام میں مسلسل جیل میں تھیں۔
خالدہ ضیا کی سخت حریف شیخ حسینہ واجد نے انھیں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت بھی نہیں دی تھی۔