جنیوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر وولکر ترک کے ترجمان نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کے تشدد میں خطرناک اضافہ ہوا ہے، جبکہ ان کارروائیوں کا ’’کوئی جوابدہ نہیں‘‘ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ جنین میں اسرائیلی بارڈر پولیس کے ہاتھوں دو فلسطینیوں کے سرعام قتل نے صورتحال کی سنگینی مزید واضح کردی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی فورسز کے غیر قانونی طاقت کے استعمال اور آبادکاروں کے تشدد پر استثنیٰ ختم ہو اور ان واقعات کی آزادانہ اور فوری تحقیقات کی جائیں۔
یو این کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (OCHA) کی رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں تشدد روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے، جس سے جانی نقصان، املاک کی تباہی اور جبری بے دخلی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال اسرائیلی آبادکاروں کے 1600 سے زائد حملوں میں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے، جن میں تقریباً 700 براہِ راست آبادکاروں کے تشدد کا نشانہ بنے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے دوگنی ہے۔